سفر یورپ 1924ء — Page 498
۴۹۸ دوستانہ بات ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان نے کہا ایسی باتیں سن کر کہ اب آئندہ آپ کو کبھی کوئی ہندوستان سے باہر جانے کا مشورہ نہ دے گا۔جماعت کو اندازہ لگ گیا ہے کہ خلیفہ بھی جماعت کا کیسا عظیم الشان ستون ہوتا ہے۔( میں خیال کرتا ہوں کہ بہت سی باتیں خدا نے ٹال دی ہیں ) دُور ہونے کی وجہ سے تاروں وغیرہ کے اخراجات اور خاص دعا ئیں ہو سکتی ہیں۔پس جماعت میں کام کرنے والے آدمیوں کے پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔سب سے بڑی توجہ آدمی پیدا کرنے کی کوشش میں لگا دینی چاہئے۔ایک جرنیل کا قول کہ ایک سپاہی کی جگہ دوسرا سپا ہی کھڑا ہوتا جائے تو وہ قوم کامیاب ہو سکتی ہے مجھے اس کا یہ قول ہمیشہ ہی پسند آیا کرتا ہے۔آدمی پیدا کرنے سے میری مراد یہی ہوا کرتی ہے کہ ہر انسان اہل ہے کہ وہ اپنے آپ کو کام کا آدمی بنا سکے۔پس ہر احمدی کو چاہئے خود کام کرنے والا آدمی بن جائے اور سلسلہ کے کارکن ہونے کا بوجھ دوسروں کے سر پر نہ رکھے۔دعا۔مسٹر گاندھی بمبئی پہنچ گئے ہیں اور حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ حضرت مفتی صاحب اور نیر صاحب عرض کر بھیجا ہے کہ گیارہ بجے دو پہر کو ملاقات ہو سکے گی جہاں وہ خود ٹھہرا ہوا ہے۔آج سیٹھ اسمعیل آدم نے حضرت اقدس کو دعوت ناشتہ دی ہے۔صبح کے ناشتہ کے لئے حضور ان کے مکان پر جائیں گے اور دو پہر کا کھانا اسی جگہ مکان پر ہو گا۔سامان قادیان کے لئے باندھا جا رہا ہے اور تیاریاں ہو رہی ہیں۔سامان کی لوٹا پھیری اور بندش وغیرہ کے کام کی وجہ سے اور زیادہ نہیں لکھ سکتا۔بند کرتا - ہوں اور تمام ہی احباب قادیان سے کیا جو بزرگ ہیں اور کیا جو خورد ہیں اور کیا جو دوست ہیں اور کیا جو بھائی ہیں یا بہنیں دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔اُمید کہ قبول ہوں گی۔مجھے اور میرے بیوی بچوں کو دعاؤں میں یا درکھا جاوے۔گر قبول افتد ز ہے عز وشرف - فقط عبدالرحمن قادیانی از بمبئی ۲۰ نومبر ۱۹۲۴ء