سفر یورپ 1924ء — Page 497
۴۹۷ کرتی ہے کہ ان پیغامیوں نے ہمیں حضرت خلیفہ اول کی وفات کا افسوس بھی نہ کرنے دیا درست ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ مرنے والوں کے لئے افسوس کا بھی ایک حصہ رکھے اور اس پر غور کرے اور طبیعت فارغ ہو کر اس کی طرف لگے اور اس کی کمی کی تلافی کرنے کی فکر کرے۔میں اس موقع پر اس مضمون کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا جو میں نے روانگی سے پہلے لکھا تھا اور اس میں کھول کر لکھا تھا کہ (اگر وہ بات جو خدا نے مجھے بتائی ہے آپ کو بھی معلوم ہو تو ہمدردی سے آپ کے دل بھر جائیں اور مجھ پر رحم کریں ) دراصل اللہ نے مجھے ایسی باتیں دکھائی تھیں۔بعض کھلے طور پر بعض اجمالی رنگ میں۔اسی پر میں نے دعا کی تھی اور الہام ہوا تھا۔قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العلمین اور اسی وجہ سے پھر میں نے دعا کرنا بھی سو عواد بی سمجھا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ ان مشکلات اور صدمات کو برداشت کرانا بھی خدا کا منشا ہے۔ان واقعات کو اگر جمع کیا جاوے تو ہماری احمد یہ تاریخ کے پچھلے دس سال میں بھی ایسے اور اتنے واقعات پہلے کبھی جمع نہ ہوئے ہوں گے۔میر محمد سعید صاحب۔شیخ فضل کریم صاحب دہلی کے۔حضرت نانا جان کی وفا تیں ہوئیں۔ہیضہ قادیان میں آیا جو پہلے مجھے یاد نہیں کہ کبھی آیا ہو۔مرکز میں ایسی مرض کہ چند گھنٹہ بلکہ چند منٹ میں انسان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔اس قسم کی خبروں کے ملنے پر جو صدمہ ہوتا ہے اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔جس شخص کو خدا نے ذمہ داری دی ہو اور وہ چھ ہزار میل پر بیٹھا ہو اور مرض ایسی ہو کہ جس سے آدمی کے منٹوں میں رخصت ہو جانے کا اندیشہ لاحق ہو کیسے تفکرات پیدا کرتا ہے۔خود میری ذاتی تکالیف کا ڈائریوں اور ظاہر حالات اور خطوں سے اندازہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا بلکہ بعض اوقات خود پاس رہنے والے بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔میری حالت عجیب طرح واقع ہوئی ہے۔بعض اوقات بیماری کا مقابلہ کر کے اس کا اظہار نہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور کام کرنے والے آدمیوں کو اخفا بھی رکھنا پڑتا ہے۔غرض یہ لوگ بھی ستون تھے جماعت کے سبھی جو وفات پاگئے اور اپنی اپنی جگہ پر ان میں سے ہر ایک جماعت کے لئے ستون کا کام دیتا تھا۔