سفر یورپ 1924ء — Page 496
۴۹۶ طریق سیکھ سکیں۔نیک آدمی افراد کی اصلاح تو کر سکتے ہیں مگر اجتماعی ترقی اور اجتماعی اصلاح میں ان کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔اجتماعی نظام کی طرف مسلمانوں نے آج تک توجہ ہی نہیں کی۔حضرت مسیح موعود کی ذات پر ہی خدا تعالیٰ نے اس بات کو بھی منحصر رکھا ہے کہ اجتماعی ترقی اور اجتماعی نظام کی طرف بھی توجہ ہوئی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ ہی کے وجود سے دنیا اس کے برکات سے بھی ضرور متمتع ہو گی۔اجتماعی نظام اور اجتماعی ترقی صرف دینی بات ہی نہیں بلکہ اس میں اور بھی بہت سے بار یک در باریک اور وسیع فوائد ملحوظ ومرکوز ہیں۔مولوی صاحب کی وفات گو اس وجہ سے کہ وہ نیک تھے صدمہ اور رنج ہے مگر ان کی وفات سے بعض فوائد بھی ہیں جو انشاء اللہ جماعت کے افراد کو ترقی کرنے اور کام کرنے کی عادت ڈالنے کا ذریعہ ہوں گے۔وہ بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے۔سید نا حضرت مسیح موعود کی وفات ہوئی۔آنحضرت لے کی وفات ہوئی مگر دوسری طرف خلافت کا قصہ پیش آ گیا مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جولوگ اس وقت کفن دفن میں لگے ہوئے تھے وہ بچے تھے اور آپ کے وصال کے بعد جولوگ خلافت کے سوال پر غور وفکر کر رہے تھے وہ وہ لوگ تھے جن کو اسلام کی روح اور آنحضرت کی آمد کی اصل غرض کے پورا کرنے کی فکر تھی۔اگر ہم خیال کر لیں کہ آنحضرت کی وفات کی وجہ سے بعض صحابہ کو تجہیز و تکفین کا فکر نہ رہا تھا بلکہ وہ اس وقت دوسری فکر میں لگ گئے تھے تو چنداں حرج نہیں کیونکہ وہ ایک ایسی بات کی فکر میں لگے ہوئے تھے کہ جس سے خدانخواستہ اسلام کے وجود کا ہی اندیشہ تھا کہ دنیا سے مٹ جائے اور وہ اس کے قیام کی فکر میں تھے۔من شاء بعد ک فلیمت - ماشاء بعدک فلیمت آدمیوں پر منحصر نہیں بلکہ اس روح کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد کے حالات ہیں۔یہی معاملات ہمیں بھی پیش آئے اور حافظ صاحب تو ہمیشہ کہا کرتے ہیں اور ان کی بات مجھے ہمیشہ مزہ دیا