سفر یورپ 1924ء — Page 495
۴۹۵ علما اس قابل نہیں ہوتے کہ لوگ ان کی عزت کریں اور اگر عزت کریں تو ضرور ان کی طرف کھیچے بھی چلے آئیں مگر ہمارے میر صاحب میں دونوں باتیں تھیں کہ انہوں نے اپنے علم کو مفید بنایا اس طرح کہ دوسروں تک پہنچایا اور خود باعمل ہو کر اپنے نمونہ اور اسوہ سے دوسروں میں بھی دین پھیلایا اور یگانگت محبت اور اخلاص بھی لوگوں اور جماعت میں پیدا کیا۔ہر کسی سے ممکن نہیں اور نہ ہی خالص روحانیت اور خداداد جذب و کشش ہر کسی کو میسر آ سکتا ہے۔دوسری بات اور وصف خاص ان کا ہمیشہ تصوف اور طہارت قلب کی طرف میلان تھا اور یہ بات اس زمانہ میں بہت کم پائی جاتی ہے۔عام طور پر لوگ یا تو عالمانہ رنگ رکھتے ہیں یا صرف منتظمانہ رنگ رکھتے ہیں لیکن وہ خود طہارت قلبی کی طرف توجہ رکھتے تھے اور مولویت کے ساتھ ان میں تصوّف کا رنگ بھی غالب تھا۔علاوہ ان کے ان کا اخلاص اور عملی نمونہ اور ان کا وجود جماعت کے لئے قابل تعریف اور نہایت مفید تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ حیدر آباد کی جماعت کو ان کی موجودگی میں اور کسی قسم کا فکر نہیں تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہر تکلیف دہ چیز میں ایک پہلو مفید بھی ہوتا ہے۔ان کی وفات جماعت کے لئے اور ہمارے لئے تکلیف دہ تھی اور ہے اور میرا معاملہ تو یہ ہے کہ جو تکلیف جماعت کے کسی وجود کی وجہ سے بالخصوص کسی مفید وجود کی وفات سے ہوتی ہے اس کو میں برداشت نہیں کرسکتا۔لیکن میں نے یہ بات بھی خصوصیت سے دیکھی ہے کہ جماعت کے دلوں میں چونکہ ان کے لئے خاص محبت اور احترام اور عظمت رہی ہے، اس وجہ سے نظام جماعت کچھ ٹھیک طور پر قائم نہ تھا اور تربیت اجتماعی حیدر آباد کی جماعت میں مجھے کبھی نظر نہیں آئی جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں چند ایسے آدمی موجود تھے اور ہیں کہ جماعت کو ان پر پورا اعتما درہا ہے اور ہے اور وہ ان کی موجودگی کی وجہ سے اور کوئی کام کرنا پسند نہیں کرتے تھے اس خیال سے کہ ان سے بڑھ کر اس کام کو اور کون کر سکتا ہے۔غرض ان باتوں سے جماعت کے افراد کی تربیت میں بہت بڑی کمزوری اور کمی رہی ہے اور یہی وجوہ ہیں کہ مجھ سے جب لوگ بعض کاموں کے متعلق پوچھتے ہیں تو میں ناراض ہوتا ہوں کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو خود کرو۔اگر غلطی کرو گے تو میں جواب طلب کروں گا اور اس طرح سے کام کرنے کا ڈھنگ تمہیں آوے گا اور سوچنے غور کرنے سے قوت عمل پیدا ہوگی۔میں نے مجلس شوری کی بنیاد بھی اسی وجہ سے رکھی ہے تا کہ مختلف جماعتیں مل کر کام کرنے کا