سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 455 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 455

۴۵۵ دے دیا جاوے کہ ہم ۲۴ کو پہنچیں گے۔حضور کھانے کو تشریف لے گئے اور پونے چار بجے نمازوں کے لئے تشریف لائے۔آج گرمی کی حدت وشدت میں کمی ہے۔نمازوں کے بعد تشریف فرما رہے اور فرمایا کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کی شہادت کے متعلق جو جلسہ پروٹسٹ کیا گیا تھا اس میں جو مضمون میں نے پڑھا تھا وہ نہ معلوم الفضل نے کیوں نہیں چھاپا۔شاید پہنچا ہی نہ ہو۔مجھ سے پوچھا کہ تم نے مضمون بھیجا تھا یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا حضور میں نے اپنے خط میں حضور کے اصل مضمون کی نقل اردو بھیجی تھی بلکہ انگریزی نقل بھی لے کر ساتھ کر دی تھی۔فرمایا تعجب ہے کیوں نہیں چھاپا گیا کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔وہ تو اب سے پہلے اخبار میں شائع ہو جانا چاہیے تھا۔اس کے بعد حضور نے خان صاحب سے بعض ضروری چٹھیوں کے متعلق پوچھا اور دریافت فرمایا اور حکم دیا کہ تمام سیاسی چٹھیاں آپ کے پاس محفوظ رہنی چاہئیں۔ضائع نہ ہوں کیونکہ وہ نہایت ضروری اور تاریخی چیزیں ہیں۔حضور نہانے کے واسطے غسل خانہ میں پانی رکھوانے کا حکم دے چکے تھے۔مولوی نیر صاحب آئے کہ حضور لیڈی ٹین (Luttyen) حضور سے ملاقات کی غرض سے آئی بیٹھی ہیں۔حضور غسل خانہ کو تشریف نہ لے گئے غسل ملتوی فرما دیا مگر نیز صاحب نے لیڈی صاحبہ سے ذکر کر دیا جس کی وجہ سے لیڈی صاحبہ کی طرف سے ہی درخواست ہوئی ہے کہ اچھا وہ پرسوں مل لیں گی۔یہ لیڈی صاحبہ سرٹین کی بیوی ہیں جو آج کل نئی دہلی کی تعمیر اور نقشہ جات کے انتظام کے اعلیٰ افسر ہیں۔ان لیڈی صاحبہ کے بھائی آج کل گورنر بنگال ہیں اور یہ صاحبہ یورپ کی تمام تھیوسا فیسکل سوسائیٹیوں کی پریذیڈنٹ ہیں اور بہت ہی انفلونشل لیڈی ہیں ( بزبان نیر صاحب ) ان کے ساتھ دو کرشن مورتیاں بھی ہیں ( دولڑ کے پرورش کئے جارہے ہیں ) کہتے ہیں کہ مسز اپنی بسنٹ کے بعد یہ عورت سب سے بڑی ہیں۔وہ علم کے لحاظ سے اور یہ اپنے تمول اور اثر کے لحاظ سے بڑھی ہوئی ہیں۔آج کی نمازیں مغرب وعشاء حضور نے رات کے کھانے کے بعد پڑھائیں۔نمازوں سے پہلے مختلف اذکار تھے اور نئی نئی تحقیقا توں کا ذکر تھا جو سب لکھنے کے قابل نہیں اس وجہ سے چھوڑتا ہوں۔پوری تحقیق اور تدقیق کے بعد اگر ان مسائل کا اظہار ہوا تو خود ہی اعلان ہو جائے گا۔