سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 454 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 454

۴۵۴ میں کیا گیا ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو کس طرح خطاب کیا کروں۔حضور نے فرمایا جولوگ مجھ سے حُسن عقیدت رکھتے ہیں وہ مجھ کو ہنر ہولی نہیں کے الفاظ سے خطاب کرتے ہیں اور جولوگ مخالف ہیں ان میں سے بعض نام لے کر خطاب کرتے ہیں۔بعض مرزا صاحب کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔میں پسند کرتا ہوں کہ جو لوگ مجھ سے عقیدت نہیں رکھتے یا ان پر میری سچائی اور صداقت نہیں کھلی وہ مجھ کو ”مرزا صاحب کہہ کر خطاب کیا کریں۔( مفصل ) احباب میں سے بعض نے حضور کے سامنے ہی عرض کیا کہ ہم تو پسند نہیں کرتے کہ حضور کو کوئی مرزا صاحب کر کے پکارا کرے۔حضور نے فرمایا کہ وہ لوگ جو ہمیں سچا نہیں سمجھتے یا ان پر ہماری صداقت ابھی تک نہیں کھلی ان سے آپ لوگ اس بات کے کیوں اُمیدوار ہیں جو ایمان بلکہ عرفان سے تعلق رکھتی ہے۔ان میں سے اگر کوئی ہمیں ہز ہولی نہیں کہتا بھی ہے تو وہ محض لفظی اور رسمی ہوتا ہے اس میں حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔پس میں یہی پسند کرتا ہوں کہ ایسے لوگ مجھے مرزا صاحب“ ہی سے خطاب کیا کریں۔ہولی نیس کے الفاظ کے معانی پر دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔مسٹر جنٹلمین۔حضرت وغیرہ الفاظ بھی اسی ذیل میں آگئے۔گاندھی اور مہاتما کے لفظ کا بھی ذکر ہوتا رہا۔مہاتما کے معنوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔جہاز کے روزانہ سفر کا اعلان ہوا کرتا ہے چنانچہ آج مورخہ ۱۱/ نومبر ۱۹۲۴ء کی دو پہر کے ۱۲ بجے جہاز کی آج کے ۲۴ گھنٹہ کی مسافت کا نوٹس لگا جو ۳۰۷ میل ہے۔اس سے اندازہ کیا گیا ہے کہ عدن ابھی ۳۵۴ میل باقی ہے۔اسی رفتار سے اگر گیا تو ۱۲ رکو۴ بجے دو پہر انشاء اللہ تعالیٰ عدن پہنچے گا۔پورٹ میں داخل ہونے میں کچھ وقت صرف ہو گا۔ڈاک ہماری معرفت پوسٹ ماسٹر آئی ہوئی ہوگی ایسا نہ ہو کہ پوسٹ آفس بند ہو جائے اور ڈاک نہ مل سکے۔کپتان جہاز کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے طور پر تار دے کر ڈاک کے واسطے کوئی ایسا انتظام کرے کہ ڈاک مل جائے۔حضور نے فرمایا کہ اس طرح تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا جہاز بمبئی ۱۸ نومبر کو پہنچے گا اور ۱۸؎ کو بھی شاید شام کے وقت اور اگر شام کو 4 بجے کے بعد پہنچا تو پھر رات کو پورٹ میں داخل بھی نہ ہونے دیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ خدائی منشا یہی ہے کہ ہم قادیان ۲۴ ر کو ہی پہنچیں کیونکہ اگر ۱۹ رکو بمبئی پہنچے تو خواہ مخواہ ۲۰ / یا ۲۱ / کوروانگی ہو سکے گی اور ۲۴ رکو رسیدگی قادیان - عدن پہنچ کر ایک تار