سفر یورپ 1924ء — Page 456
۴۵۶ نمازیں آج بھی سیکنڈ کلاس ڈرائینگ روم کے اوپر کی منزل پر ادا کی گئیں۔آج چونکہ تختہ جہاز پر انگریزوں وغیرہ کے ناچ رنگ کا زور تھا اس وجہ سے حضور زیادہ دیر اوپر نہ بیٹھے بلکہ جلد اپنے کمرہ میں آگئے مگر عین حضور کے کمرے کے اوپر کے حصہ پر وہ مجلس رقص وغنی گرم تھی جس کی وجہ سے حضور کو تکلیف ہی رہی۔چوہدری علی محمد صاحب کو آج بعد نماز عشاء چھاتی کے حصہ جگر پر جہاں چوٹ آئی ہوئی ہے سخت درد اُٹھا جس سے وہ پھر بہت ہی بے چین رہے۔دوائی وغیرہ دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔۱۲ / نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف لائے۔عرفانی صاحب نے پوچھا حضور رات نیند آئی یا نہیں؟ فرمایا آج رات نیند کہاں؟ وہ جنات کا عملہ آپ کی طرف نہ آیا ہوگا مجھے تو رات دو مرتبہ ایسا خطرہ ہوا کہ خدانخواستہ جہاز خطرہ میں پڑ گیا ہے۔اُٹھادیکھا مگر کوئی ایسی علامت نہ پائی اور پھر لیٹ گیا مگر شور وشغب نے بالکل چین نہ لینے دیا۔ہمارے کمرے کے اوپر سخت شور وغوغا رہا ہے۔آج رات ناچ اور گانا بجانا زوروں پر تھا۔اس وقت کہ آٹھ بجے ہیں باب المندب سے جہاز گز ررہا ہے اور سرزمین عرب کا ایک چھوٹا سا گاؤں ساحل سمندر پر بہت ہی محبوب و پیارا لگتا ہے جسے دیکھ کر دل میں ایک تڑپ ایک اُمنگ اور ایک خواہش اور جوش پیدا ہوتا ہے۔لهم آمین ثم آمین یا ارحم الراحمين پونے نو بجے کے قریب حضرت اقدس پھر چبوترہ پر تشریف لائے۔ناشتہ فرمایا۔مجلس گرم ہوئی اور تجارت زراعت اور حرفت کے متعلق طویل گفتگو جاری رہی۔حضور کا منشا ہے کہ قادیان میں انڈسٹریز کا تجربہ وریسرچ کیا جاوے اور کوشش کی جاوے کہ کسی طرح سے قادیان میں کامیاب انڈسٹریز قائم ہو جائیں کیونکہ اس کے بغیر بیرونی ممالک اور غیر بلا د سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے جو ہمارے واسطے ضروریات تبلیغ کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ضروری ہیں وغیرہ وغیرہ۔ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک اس امر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو جاری رہی۔اب حضور عدن