سفر یورپ 1924ء — Page 319
۳۱۹ افغانستان کی حکومت۔چینی حکومت کوخود ایسی نہیں ہے کہ اس کے ہندوستان پر حملہ کی امید کی جائے مگر چینی سرحد پر ایسی ریاستیں موجود ہیں کہ جو جنگی نسل کے لوگوں سے آباد ہیں اور اگر ہندوستان کسی وقت کمزور ہو جائے تو بعید نہیں کہ وہ ہندوستان کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں جس طرح کہ وہ پہلے بھی کرتی رہی ہیں۔افغانستان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگوں کو یہ یقین ہے کہ ہندوستانی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور پرانی روایات ان کے جوشوں کو قائم رکھتی ہے۔افغان اپنے دل سے اس بات کو نہیں نکال سکتے کہ ہمیشہ ہندوستان شمالی حملہ آوروں کے حملوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہا ہے۔پس اگر ہندوستان میں حکومت طاقتور نہ ہو تو ہندوستان ہر وقت بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ نہیں ہے۔ان حملوں کے علاوہ جو خشکی کی طرف سے ہو سکتے ہیں سمندر کی طرف سے بھی ہندوستان محفوظ نہیں ہے۔اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ہندوستان میں حکومت کے کمزور ہونے پر سولھویں اور سترویں صدی کی دست درازیوں کا زمانہ پھر نہ آ جائے گا اور بعض چھوٹے چھوٹے علاقے وسیع ہونے والی حکومتوں کے لئے بیج کا کام نہ دیں گے۔قومی حالت ہندوستان کی یہ ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک مختلف قوموں کا جال پھیلا ہوا ہے۔باہر سے آنے والی قوموں میں سے پٹھان سب سے زیادہ ہیں پھر سید اور مغل اور قریشی ہیں۔ان کے علاوہ اور چھوٹی چھوٹی قو میں بھی ہیں۔خود ہندوستان کی بہت سی قومیں ہیں۔برہمن ، راجپوت ، مرہٹے، جاٹ گوجر ، بنٹے ، ارائیں ، کشمیری ، ککے زئی۔ان میں سے اکثر قوموں میں پھر تقسیم ہے یعنی مسلمان اور ہندو کی۔ان قوموں کے علاوہ شو دریا نجس اقوام بہت سی ہیں جیسے چوڑھے، چمار، گونڈ، بھیل، غاسو دراز وغیرہ۔یہ تمام قو میں ابھی تک اپنی علیحدہ ہستی کو قائم رکھے چلی جاتی ہیں اور ان میں ایسا قومی اتحاد ہے کہ کوئی خارجی اثر اس کو ہٹا نہیں سکا۔ہندوستان کے الیکشن اس قد ر لیاقت یا اصول کی بنیاد پر نہیں ہوتے جس قدر کہ قومیت کی بنا پر۔جب کوئی شخص کسی لوکل یا امپریل انسٹی ٹیوٹ کی ممبری کے لئے کھڑا ہوتا ہے سب سے پہلا سوال اس کے متعلق یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس علاقہ میں اس کی قوم کے اس قدر آدمی ہیں کہ اس کو جیتنے کی امید ہو۔پچھلے الیکشن میں ہمارے ضلع سے سات آٹھ آدمی امیدوار کھڑے ہوئے تھے مگر وہی لوگ آخر تک رہ سکے جو قومی ووٹ رکھتے تھے۔راجپوتوں نے راجپوت امیدوار کو ، گوجروں نے گوجر کو اور پٹھانوں نے پٹھان