سفر یورپ 1924ء — Page 318
۳۱۸ بسم الله الرحمن الرحيم اعوذ بالله من الشيطن الرجيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر ہندوستان کے حالات حاضرہ اور اتحاد کے پیدا کرنے کے ذرائع صدر جلسہ، بہنو اور بھائیو! گو میں ایک ایسا آدمی ہوں جس کی زندگی دینی کاموں کے لئے وقف ہے لیکن سیاست گومذہب میں داخل نہیں مگر کئی پہلوؤں سے اس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور چونکہ دنیا کے امن کا قیام مذہب کی سب سے بڑی غرضوں میں سے ہے جو بھی قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ سیاسی امن بھی قائم نہ ہو۔اس لئے میں نہایت ہی خوش ہوں کہ مجھے ہندوستان کے موجودہ حالات اور ان کے علاج کے متعلق بولنے کا موقع ملا ہے۔پیشتر اس کے کہ میں اپنے مضمون کو شروع کروں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے ہندوستان کی کسی پولیٹیکل جماعت سے تعلق نہیں ہے۔بہت سے لوگ ہمیں گورنمنٹ کا خوشامدی کہتے ہیں لیکن جو شخص بھی ہمارے حالات سے واقف ہے جانتا ہے کہ ہماری پالیسی ایک آزاد پالیسی ہے۔ہم جیسا موقع ہو گورنمنٹ کی پالیسی پر یا قوم پرستوں کی پالیسی پر نکتہ چینی کرنے سے باز نہیں رہتے مگر ہاں ہمارا یہ اصل ہے کہ ہمیں کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے کہ ملک کی قائم شدہ گورنمنٹ کے لئے کام کرنا مشکل ہو جائے ورنہ ہم گورنمنٹ سے نہ کسی انعام کے امیدوار ہوتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ملکی خدمات کے بدلے میں لوگوں کو انعام دے کیونکہ اس سے نیک نیتی کی خدمت کی روح مرجاتی ہے اور ملک کو انجام کا رنقصان پہنچتا ہے۔اس تمہید کے بعد میں سب سے پہلے ہندوستان کی جغرافیکل اور سوشل حالت بیان کرنی چاہتا ہوں کیونکہ بغیر اس حالت کے علم کے کوئی شخص ہندوستان کے متعلق صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔ہندوستان ایک ایسا ملک ہے۔جس کے شرقی اور شمالی طرف چینی حکومت ہے اور شمال مغربی طرف