سفر یورپ 1924ء — Page 320
۳۲۰ امیدوار کو ووٹ دیئے۔استثناء ہوتے ہیں مگر قانون یہی ہے۔مذہبی حالت یہ ہے کہ ہندومسلم کا سوال ہمیشہ زور پر رہتا ہے گو بعض لوگ ایسے ہوں کہ ملکی فائدہ کو قومی فائدہ پر مقدم کریں مگر کثرت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ مذہبی تعصب کو دور نہیں کر سکتے۔گورنمنٹ کے ہر صیغہ میں چھوٹے عہدوں کے متعلق جو مقامی طور پر پر کئے جاتے ہیں یہ بات نظر آئے گی کہ مذہبی تعصب رونما ہو گا۔مسلمان چونکہ تعلیم میں پیچھے رہ گئے تھے اس لئے لازماً سرکاری ملا زمت میں بھی کم تھے۔اب تعلیم یافتہ مسلمان بہت کثرت سے مل سکتے ہیں مگر ان کو ملا زمت نہیں مل سکتی کیونکہ قومی تعصب ہمیشہ راستہ میں حائل ہو جاتا ہے۔پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی باون فیصد سے بھی زیادہ ہے مگر سرکاری ملازمتوں میں وہ تہیں فیصد کے بھی حصہ دار نہیں ہیں۔ٹیکنیکل کالجوں میں بھی ان کو داخلہ کا موقع نہیں ملتا جس وقت انگریزی حکومت کا سوال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ عمدہ گورنمنٹ سیلف گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتی مگر جس وقت ملازمتوں کا سوال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اصل معیار لیاقت ہے۔کسی قوم کو بحیثیت قوم کے حکومت میں کوئی حق نہیں ہے مگر لیاقت کی تعریف ایسی غیر معین ہے کہ دوسری قوموں کے آدمی اس کا وجود اپنی ذات میں ثابت ہی نہیں کر سکتے۔غرض سوائے نہایت محدود جماعت کے باقی لوگوں میں سخت تعصب کے آثار پائے جاتے ہیں۔زبان کا سوال بھی نہایت پیچیدہ ہے۔سیلف گورنمنٹ کے لئے ایک سرکاری زبان کا ہونا ضروری ہے۔ہندوستان میں بیسیوں زبانیں ہیں۔علاوہ اردو کے جو پنجاب، یوپی ، بہار، حیدر آباد، صوبہ سرحدی میں تو اچھی طرح سے بولی اور سمجھی جاتی ہے باقی ہندوستان کے صوبوں میں بھی کم و بیش اس کا رواج ہے۔ہندی زبان ہے۔بنگالی ہے۔سندھی ہے۔تامل ہے۔تلنگو ہے۔مالا باری ہے۔اُڑ یہ ہے۔کشمیری ہے۔پشتو ہے۔مرہٹی ہے۔گجراتی ہے۔ان سب زبانوں میں سے اردو اور ہندی زبانوں کے متعلق اختلاف ہے کہ کونسی زبان ملکی زبان ہونی چاہیے۔ہند و پورا زور لگاتے ہیں کہ ہندی زبان کو ملکی زبان قرار دیا جائے اور مسلمان اس بات پر مصر ہیں کہ اردو زبان اصلی قرار دی جائے اور اسی اختلاف میں پھر قومی اور مذہبی تعصب کا دخل ہے۔ہندی کا زیادہ رواج ہندوؤں میں ہے اور اردو کا مسلمانوں میں۔اگر ملک میں ہندی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا جائے تو اکثر مسلمانوں کو ملازمتوں سے علیحدہ ہونا پڑے۔کچھ دنوں سے بنگالی کی