سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 317 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 317

۳۱۷ پھر کہا کہ احمدیوں کی ایک خصوصیت کا تو میں بھی قائل ہوں اور وہ یہ ہے کہ ان میں کام کرنے اور ترقی کرنے کی بے نظیر سپرٹ پائی جاتی ہے اور آگے ایک ایسا فقرہ کہا جو اس کے اپنے علم کے لحاظ سے تھا مگر میں درج کرتا ہوں۔کہا حتی کہ حضرت محمد ( ﷺ ) میں اور ان کے صحابہؓ میں بھی نہ تھی۔( یہ تو اس کی کم علمی اور نا واقفیت کا نتیجہ ہے ) اور نہ حقیقت یہ ہے کہ چہ نسبت خاک را با عالم پاک؟ - ۲۷ ستمبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضرت اقدس تشریف نہ لا سکے۔مصروفیت بہت زیادہ ہے۔کل کو ایک دعوت ہماری طرف سے مذہبی کا نفرنس میں آنے والوں اور منتظمین کو دی گئی ہے جو کسی بڑے ہوٹل میں ہوگی اور ایک لیکچر رات کو طلبا میں ہوگا جو ۱۸ سال تک کی عمر کے ہیں۔رسول کریم کے حالات پر لیکچر ہوگا۔اس کی تیاری میں حضور مصروف ہیں۔آج چار بجے حضرت نے ایک بہائی عورت کے ہاں چائے کی دعوت پر بھی جانا ہے۔بلام فلیڈ شاید اس کا نام ہے۔آج دو پہر کے کھانے پر کرنل ڈگلس کا ذکر آ گیا۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے حضرت اقدس کے حضور عرض کی کہ حضور چوہدری محمد شریف کی ملاقات میں کرنل ڈگلس نے کہا کہ احمدیوں میں روحانیت ضرور ہے۔حضور نے فرمایا کہ اس کو کس طرح پتہ لگا کہ احمدیوں میں روحانیت ہے۔آخر اس کو اس رائے کے وجوہات تو معلوم ہونے چاہئیں۔فرمایا ایک بات تو میں نے بھی اس میں دیکھی ہے کہ اس کے دل میں سلسلہ کی عظمت اور محبت ضرور ہے۔حضور سے مصافحہ کرتے وقت اس دن اس نے مغربی طریق کے بالکل خلاف بجائے ایک ہاتھ کے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا مگر تعجب ہے کہ وہ با وجود پکار ہر یہ ہونے کے پکا عیسائی بھی ہے۔رات کے جلسہ کے خاتمہ پر حضرت اقدس وہاں سے چلنے کے لئے اُٹھے۔حضور کا منشا تھا کہ اب چلیں گے مگر دیکھا کہ تمام لوگ کھڑے ہو گئے ہیں اور معاً ایک گیت گایا جانا شروع ہو گیا جو قومی گیت کے نام سے مشہور ہے۔حضور بھی اس گیت کے گاتے وقت کھڑے ہی رہے مگر کھڑے کسی خیال سے خاص رسماً نہ ہوئے تھے بلکہ چونکہ چلنے کے واسطے کھڑے ہو چکے تھے لہذا کھڑے ہی رہے۔