سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 313 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 313

۳۱۳ ہم لوگ جو حضور کی انتظار میں ساتھ کے کمرہ میں تھے حضور کو دیکھ کر لیکے اور ہال میں چلے گئے۔حضور کا سٹیج پر پہنچنا تھا کہ ہال چیئر ز اور متواتر چیئر ز سے گونج اٹھامگر منتظمین نے کوئی ترتیب ابھی دینی تھی حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کر کے حضور کو مع خدام بغلی کمرہ میں لے آئے اور ادھر اپنا کام کر لیا اور پھر جلدی ہی حضور کی خدمت میں عرض کر کے لے گئے۔پھر حضور مع خدام سٹیج پر پہنچے تھے کہ لمبے اور متواتر چیئر ز کے ساتھ دوبارہ سہ بارہ ہال گونجنے لگا۔حضور کے ساتھ سٹیج پر سب دوست نہ تھے کیونکہ جگہ کم تھی۔مکرمی مولوی عبدالرحیم صاحب اور ڈاکٹر صاحب خان صاحب عرفانی ،صاحب مصری صاحب، حافظ صاحب، چوہدری صاحب، مولوی مبارک علی صاحب، چوہدری محمد شریف صاحب، مولوی محمد دین صاحب اور نیر صاحب تھے۔پریذیڈنٹ مسٹر بوٹ نے جو کنسرویٹو پارٹی کے لیڈر ہیں اور ڈلج کی میونسپل کمیٹی کے اعلیٰ عہدیدار، انہوں نے حضور کا مختصر الفاظ میں تعارف کرایا اور پھر حضور سے درخواست کی حضور اپنی تقریر سنائیں۔حضرت اقدس نے کھڑے ہو کر ان کا رکنوں کا شکر یہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے ہمیں خیالات کے اظہار کا موقع دیا ہے اور معذرت کی کہ میں اپنا پر چہ بوجہ اس کے کہ میں لکھے ہوئے کے پڑھنے کا عادی نہیں اور بوجہ اس کے کہ میں اعلیٰ درجہ کا زبان دان نہیں اور لہجہ بھی میرا اجنبی ہے خود لیکچر نہیں پڑھ سکتا بلکہ میرے دوست اور میرے مرید چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بارایٹ لا ، میرا پر چہ سنا ئیں گے آپ توجہ سے سنیں۔حضرت اقدس کے ان چند فقرات کے خاتمہ پر جناب چوہدری صاحب کھڑے ہوئے اور مشترکہ چیئر ز کا سلسلہ پھر جاری ہو گیا جو خاصہ لمبا تھا۔چوہدری صاحب نے مضمون کو پڑھا اور پڑھنے کا حق ادا کر دیا۔پورے سوا گھنٹہ میں مضمون ختم کیا گیا۔درمیان میں حضرت اقدس نے طوالت کے خوف سے بعض باتیں لکھی نہ تھیں۔صرف ایک بات ہی لکھی مگر راستہ میں چوہدری صاحب کو جاتے ہوئے سمجھا دیا تھا کہ وہ کیا کیا باتیں ہیں ان کو چوہدری صاحب نے نہایت موزوں اور مناسب الفاظ میں اور دلچسپ پیرا یہ میں خود بیان کر دیا۔اس سوا گھنٹہ کے عرصہ میں ابتدائی اور آخری طویل اور پر زور چیئر ز کو چھوڑ کر مضمون مضمون