سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 312 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 312

۳۱۲ کے ساتھ ہو جاتے تھے ورنہ خیر۔بہائی کہا کرتے ہیں کہ یورپ میں ان کی بہت بڑی تعداد ہے مگر اس تعداد کا پتہ اس عظیم الشان دنگل میں بھی نہیں لگ سکا اور سوائے چند ایک عورتوں یا خال خال مردوں کے کوئی بہائی نظر نہ آتا تھا اگر وہ تھے تو کیوں نہ اس عظیم الشان لیکچر میں آئے۔کیا ہوسکتا ہے کہ لاہور میں سید نا حضرت مسیح موعود کا لیکچر جلسہ اعظم مذاہب میں پڑھا جائے ، اور اور تو اور لاہور کے احمدی بھی اس میں شریک نہ ہوں ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔فطرت چاہتی ہے کہ جس مذہب سے اس کو دلی تعلق اور قلبی وابستگی ہے اس کی اشاعت اورس کے مقابلہ کے اوقات میں اس کے ساتھ شریک ہو۔بہائی بھی اس اصل سے باہر نہیں آئے۔آئے اور ضرور آئے اور سب ہی آئے ایک بھی ان میں سے باہر نہیں رہا۔جتنے تھے عورت کیا مردسب ہی آگئے تھے اور اس جلسہ میں شامل تھے۔دراصل ان لوگوں کو اپنی تعداد میں غلطی لگی ہے۔دنیا کے روز تبدیل ہوتے ہوئے خیالات جس مذہب کا اصل ہوں وہ سارے جہان کو بھی اگر اپنا ہم مذہب کہہ لے تو کون اس کی زبان یا اس کا قلم روک اور پکڑ سکتا ہے۔رات کو حضرت اقدس کا ایک ٹیچر تھا جس کا ترجمہ محترم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جس سرعت ، تیزی اور جلدی ، محنت اور محبت سے کیا ہے اس کا مجھ سے بیان نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی داد دی جاسکتی ہے۔ماشاء الله لاقوة الا بالله - چشم بد دور اللہ تعالیٰ دن دگنا رات - چوگنا کرے۔بڑھائے اور خدمات دین کا بیش از بیش موقع و توفیق رفیق کرے۔آمین ثم آمین مشکل سے مشکل خیالات کو ایسی صفائی اور تیزی سے اور دنوں کے کام کو گھنٹوں میں پورا کیا کہ خالی اردو لکھنا بھی اور نقل کرنا بھی شاید ایسی جلدی نہ ہوسکتا۔حضرت اقدس ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے بذریعہ موٹر ہال میں پہنچے۔حضور کی تشریف آوری پر ہال بھرا ہوا تھا۔خدام الگ پہلے بذریعہ ریل جاچکے تھے۔وقت ہو گیا تھا اور منتظمین کی گھبراہٹ کی کوئی حد نہ تھی۔ایک دوسرے سے اور دوسرا تیسرے سے بار بار پوچھتے تھے کہ ہر ہولی نس کیوں نہیں آئے۔ہمیں خیال تھا کہ ترجمہ پورا نہیں ہوا یا ہوا تو ٹائپ میں دیر ہو گئی ہے۔سب لوگ اس گھبراہٹ میں تھے کہ دفعتا نظر اٹھی تو دیکھا کہ حضور حاضرین کی قطاروں میں سے جلد جلد قدم اُٹھائے سٹیج کی طرف تشریف لے جارہے ہیں۔