سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 314 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 314

۳۱۴ پر دس مرتبہ دل و جان سے حاضرین نے چیئر ز دیئے اور ایک مرتبہ ہندوستانی بننے کے مظالم کے بیان پر سخت نفرت کا اظہار کیا۔اس سوا گھنٹہ میں حاضرین میں سے ایک متنفس بھی نہ اُٹھا حتی کہ کروٹ تک بھی نہ لیا۔ہال میں جس قدر گنجائش ممکن تھی کی گئی۔گیلری بھی اور ہال بھی بھر گیا اور تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔بغلی کمروں میں لوگ جمع ہو کر کھڑے ہوتے گئے اور بیسیوں دروازہ کھٹکھٹا کر واپس چلے گئے۔حاضرین نے نہایت دلچپسی اور پوری توجہ سے مضمون کو سنا اور بہت ہی تعریف کی۔لوگوں کی حاضری کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ پریذیڈنٹ کا ایک فقرہ لکھ دینا ہی کافی ہوگا جس نے کہا کہ ” خوش قسمتی سے آج کا دن بہت خراب ہے۔( کثرت باران اور کیچڑ وغیرہ کی وجہ سے ) ور نہ نہ معلوم ہمارا اور ہمارے ہال کا کیا حال ہوتا۔“ اور مضمون کے دلچسپ اور علمی اور نہایت اعلیٰ ہونے کے متعلق بھی شاید اسی طرح ایک ہی فقرہ نقل کر دینا کافی ہوگا جس میں بیسیوں صفحات کا مضمون داخل ہے اور جو ایک بڑے آدمی نے جو سٹیج پر پریذیڈنٹ کے پاس بیٹھا تھا غالبا وائس پریذیڈنٹ تھا اور بڑا مقر رتھا۔اس نے کہا۔” ہمارے پریذیڈنٹ صاحب نے بے شمار جلسوں کی صدارت کی ہے مگر I dare say میں دلیری سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے دلچسپ (انٹریسٹنگ ) علمی ، مفید اور کامیاب جلسہ کی صدارت کبھی نہ کی ہوگی۔یہ فخریہ عزت ہمارے معزز پریذیڈنٹ کے لئے قابل صد مبارکباد ہے جو زندگی بھر بلکہ اس کے بعد بھی اس کے نام کو عزت کے ساتھ یاد کراتی رہے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ساری حقیقت اور ساری تعریف جو ممکن تھی اور حاضری اور حاضرین کی حاموشی اور دلچسپی اور آخیر تک بیٹھے رہنا اور نہ ہلنا بلکہ اونچا سانس بھی نہ لینا سب باتیں اور ان کے سوا مضمون کی خوبی اور کمال اور اور ترتیب اور اعلیٰ خیالات سب باتیں ان دو فقروں میں مرکوز ہیں۔مضمون کے خاتمہ پر ریزولیوشن پیش کیا گیا اور اتفاق رائے سے پاس کیا گیا کہ ایسے مفید معلومات علمی خیالات اور اعلیٰ درجہ کے مشورہ کے لئے ہر ہولی نس کا شکر یہ ادا کیا جائے جس کو ہاتھوں کے اٹھانے اور Aye Aye Aye کے الفاظ کے دہرانے سے بہت محبت اور جوش سے پاس کیا گیا۔