سفر یورپ 1924ء — Page 311
۳۱۱ شاید کوئی کہے کہ مخالفت عقائد کی وجہ سے ایسے رنگ میں میں نے لکھا ہے جس سے مذمت ٹپکتی ہے تو میں ایک ایسا فقرہ عرض کر دیتا ہوں جس کو لیکچرار نے بڑے شوق سے بار بار دہرایا اور اس پر ناز کیا۔آپ سمجھ لیں کہ اس میں کیا حکمت تھی۔وہ کہتا ہے کہ جب کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہو تو اس کو چاہئے کہ اسے لڑکے سے اچھا سمجھے اور لڑکے پر ترجیح دے۔لڑکے کو نہ پڑھائے اور نہ اچھی تربیت کرے تو نقصان نہیں مگر لڑکی کو تو ضرور پڑھائے اور اچھی طرح سے تعلیم و تربیت دلائے کیونکہ اس نے ماں بننا ہے۔گویا لڑکے نے تو کسی کا باپ نہیں بننا۔ظاہر بات ہے کہ اس فقرہ سے عورتیں اور خصوصاً لنڈن کی عورتیں کیسی خوش ہوئی ہوں گی اور انہوں نے تالیاں پیٹی ہوں گی۔چیئر ز کیوں نہ ہوں ؟ اخبارات میں ان لیکچر ان کا ذکر ہوا ہے مگر نہ اتنا جتنا ان کو امید تھی۔نہ ایسا جیسا وہ چاہتے تھے اور ان کی کوشش تھی۔ایک اخبار ان کے مضمون کا ذکر کے اوپر ہیڈ نگ لکھتا ہے۔Non Competitive Creed جس کا مطلب یہ ہے کہ صلح کل - با مسلمان اللہ اللہ۔بابرہمن رام رام۔اب بتائیے ان کی کون تعریف نہ کرے خصوصاً ایسے ملک میں جہاں اباہت اور ہر دلعزیزی پیدا کرنا ہی موجب نجات سمجھا جا رہا ہو۔پریذیڈنٹ ڈاکٹر والش جس کا مذہب ہی خود یہ ہے کہ دنیا کا مذہب زوائد کو اگر چھوڑ دیا جائے تو ایک ہی ہے۔ہندو ہندو رہ کر۔برہمو بر ہمورہ کر۔عیسائی اور یہودی اپنے عقائد پر رہ کر۔مسلمان اپنے عقائد پر رہ کر نجات پاسکتے ہیں اور اس لحاظ سے بہائی عقیدہ اور بہائی تحریک ایک Foremost تحریک ہے اور بس۔مگر ابھی تک یہ خیالات اور یہ رائے یک طرفہ فیصلہ ہیں کیونکہ ظلمت کے سوا ان کے سامنے کچھ آیا ہی نہیں۔نور کے آنے کے بعد جو رائے قائم ہوگی حقیقی اور سچی رائے کہلانے کی وہی مستحق ہو گی مگر با وجود ان باتوں کے نہ وہ حاضری تھی نہ وہ قبولیت جو دلوں پر پاک اثر پیدا کر کے روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔خالی واہ واہ تھی سو وہ بھی پندرہ میں بہائی عقیدہ کی لیڈیاں بیٹھی تھیں اور وہ بات بات پر چیئر ز دینے کی ابتدا کر دیتی تھیں جس سے متاثر ہو کر یا ان کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اور مرد و زن بھی ان