سفر یورپ 1924ء — Page 310
۳۱۰ قریبی رشتہ دار رومی افغان تھا۔کہتے ہیں کہ دونوں پر چے بڑی خوبصورتی سے پڑھے گئے اور بعض جگہ فقرے فقرے پر چیئر ز دیئے گئے۔حاضری کو بعض کافی کہتے ہیں اور بعض دوست بتاتے ہیں پچھلی ۹ قطار میں دونوں طرف کی خالی تھیں اور انگلی قطار میں بھی چھدری چھدری تھیں۔ٹھس کر بھری نہ تھیں۔انگریز مقرر نے اپنا لیکچر نہایت خوبی سے پڑھا اور علی ھذار و می نام افغان نے بھی بہت محنت اور کوشش سے نبھانے کی کوشش کی۔لوگوں کو خوش کر دینے اور چیئر ز لینے کی ایک ہی راہ تھی جوان کے مذہب میں کوئی پابندی حکم، کوئی نہی یا کوئی امر نہ ہونے کی وجہ سے تھی۔آزادی ، محبت ، برابری، حریت اور رواداری وغیرہ کے الفاظ زمانہ کے رخ اور چلتی ہوئی رو نیز دہریت وابا ہت کے منتخبہ فقرات کو جوڑ تو ڑ کر مضمون نگاری یا لفاظی پر مشتمل یا بعض اقوال انہی معنوں کی تصدیق اور انہی مقاصد کی تائید میں اپنے گرو کے لیکچروں سے نوٹ اور کوٹ (Cout) کرکر کے سناتے رہے۔مثلاً بہائیت میں کوئی مذہبی پابندی نہیں !!! چیئر ز - بہائیت میں ہر مذہب کے لوگ جمع ہو سکتے ہیں !!! چیئر ز - بہائیت محبت اور صلح پھیلانا چاہتی ہے !!!! چیئر ز - ایک سکھ ، ایک عیسائی ، ایک یہودی ، ایک مجوسی ، ایک بت پرست، ایک دہریہ، ایک فلاسفر، ایک مسلمان اپنے اپنے خیالات کی پابندی کرتے ہوئے صرف بہاء اللہ کو ماننے سے ایک ہو جاتے ہیں کسی عملی قربانی کی ضرورت نہیں !!! چیئر ز - بہائیت عورت کی بڑی عزت کراتی ہے!!! چیئر ز - بہائیت میں عورت مرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں !!! چیئر ز - بہائیت کثرت ازدواج کے خلاف ہے!!! چیئر ز - بہائیت غلامی کے خلاف ہے !!! چیئر ز - بہائیت سور کو جائز قرار دیتی ہے !!! چیئر ز - بہائیت کو زمانہ کی رو کے مطابق بنانے اور ہمیشہ تبدیلی کرنے کے لئے ایک کا نفرنس بنادی گئی ہے !!! چیئر ز - الغرض سنا گیا ہے کہ بہائیوں نے اپنے مضامین کو اس رنگ میں پیش کیا اور ہر دلعزیز دکھا کر چیئر ز بھی لئے اور پریذیڈنٹ جو خیالات میں لیبرل چرچ کا لیڈر ہے اور اس کا مذہب ہے کہ اللہ، رام ، رحیم ، گاڈ، پر میشر ، غرض جس نام سے خدا کو کوئی مانے وہ سب یکساں خدا تک پہنچتے ہیں اور وہ بڑا مقرر آدمی ہے۔ڈاکٹر والش اس کا نام ہے۔اس نے ریمارکس بھی اچھے دیئے کیونکہ خیالات میں دونوں کا اتحاد تھا اور کوئی مخالفت نہ تھی۔اس وجہ سے ڈاکٹر والش نے بھی خوب زور دار الفاظ میں لیکچر کو دھرایا اور تعریف کی۔