سفر یورپ 1924ء — Page 302
٣٠٢ - حضور وہاں سے فارغ ہو کر لیکچر ہال میں تشریف لائے جہاں مضمون شروع ہو چکا تھا اور حافظ صاحب ابتدائے مضمون میں تبر کا قرآن شریف کی تلاوت کر رہے تھے۔ہم لوگ جب سیٹرھیوں سے چڑھے فرش پتھر وغیرہ کا پختہ تھا چلنے سے کچھ آہٹ ہوئی تو دروازہ پر جو کہ لیکچر گاہ سے کم از کم پچاس فٹ کے فاصلہ پر تھا ایک دو عورتیں اور مرد حضور کی خدمت میں سمنت التجا کر نے لگے اور اشاروں سے بتانے لگے کہ قرآن شریف پڑھا جا رہا ہے ذرا ٹھہر جائیں تا کہ آہٹ سے پریشانی نہ ہو۔گویا وہ لوگ قرآن شریف کے خوش الحانی سے پڑھے جانے پر ایسے مست اور بے خود تھے کہ خوشامدانہ رنگ پایا جاتا تھا۔منتیں کرتے تھے کہ خدا کے واسطے آہٹ کر کے ڈسٹرب نہ کریں۔ہم لوگ دو چار قدم آہستہ چلنے کے بعد قالین پر آگئے اور اس طرح آہٹ پاؤں کی بند ہوگئی۔حافظ صاحب کا قرآن شریف پڑھنا نہایت ہی موثر تھا۔خاتمہ پر لوگ بے ساختہ خوشی سے تالیاں پیٹنے لگ گئے اور بہت ہی چیئر ز دیئے جو ان لوگوں کی انتہائی خوشی کے اظہار کا بہترین طریق سمجھا جاتا ہے۔تلاوت کے بعد حافظ صاحب نے تین شعر حضرت مسیح موعود کی نظم کے ” محبت تو دوائے ہزار بیماری ست والے انتہائی سوز سے پڑھے اور ان پر بھی چیئر ز دیئے گئے۔حافظ صاحب کا مضمون تصوف جناب مولوی محمد دین صاحب بی۔اے نے پڑھا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے خوب پڑھا۔لوگوں نے اس کی بھی داد دی اور بار بار دی۔مضمون لمبا تھا وقت تھوڑا۔چیئر مین نے دو تین نہیں بلکہ چار پانچ مرتبہ وقت ختم ہونے کی اطلاع دی مگر مولوی صاحب چاہتے تھے کہ کسی طرح سے اس کو ختم کر کے ہی چھوڑیں جو نہ ہو سکا۔حاضری خاصی تھی اور مضمون بھی دلچسپی سے سنا گیا۔آخر مولوی صاحب کو اپنے دوستوں نے روکا۔مضمون کے خاتمہ پر بہت چیئر ز دیئے گئے۔لوگوں نے کہا کہ ویری انٹریسٹنگ بٹ ویری لونگ (Very interesting but very long) مبارک بادیں دی گئیں۔خوشی کا اظہار کیا گیا۔تعریفیں کی گئیں اور بعض لوگوں نے اس مضمون کو مکان پر آکر پورا پڑھنے کی درخواست کی۔پریذیڈنٹ نے بہت اچھے ریمارکس کئے اور حافظ صاحب کو مبارک باد دی کہ ایسا اچھا مضمون ہمیں سنایا اور دلچسپ معلومات ہمارے واسطے جمع کئے ہیں۔پریذیڈنٹ کا نفرنس مذاہب نے انٹروڈیوس کراتے وقت ابتدا ہی میں بتا دیا تھا کہ حافظ صاحب پیدائشی صوفی ہیں اور ۲۰ سال سے احمد یہ سلسلہ کی خوبیوں کو معلوم کر کے احمدی ہو گئے ہیں۔وطن رنمل گجرات پنجاب ہے مگر اب