سفر یورپ 1924ء — Page 303
٣٠٣ قادیان میں رہتے ہیں اور بہت بڑے صوفی ہیں اور صوفی ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وغیرہ۔مولوی محمد دین صاحب کے متعلق بھی بتا دیا گیا تھا کہ احمد یہ جماعت کے ممبر ہیں۔امریکہ میں احمدیہ مشن کے انچارج رہے ہیں چنانچہ آپ کو ڈاکٹر محمد دین کر کے پکارا جاتا تھا۔خاتمہ پر لوگوں نے مولوی صاحب کے لہجہ کی بھی تعریف کی اور حضرت اقدس سے عرض کیا کہ بہت اچھی انگریزی بولتے ہیں شاید بہت عرصہ سے انگلستان میں ہیں۔حضرت اقدس نے بتایا کہ وہ ہماری طرف سے امریکہ میں مبلغ مقرر ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب نے غلطی کی کہ مضمون کو زبر دستی لمبا کرتے چلے گئے۔اگر پانچ منٹ بھی پہلے بند کر دیتے تو موجودہ اثر سے دس گنا اچھا اثر رہتا۔لوگوں کے دل مضمون کی خوبی کے قائل تھے مگر دیر کی وجہ سے چھوڑ چھوڑ کر کثرت سے چلے گئے گوا کثر لوگ موجود رہے مگر انہوں نے بھی دلچسپ کے ساتھ لمبے ہونے کی شکایت ہی کر دی۔الغرض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ لیکچر بھی ہمارا نہایت کامیاب لیکچر ثابت ہوا۔رپورٹر نے تاریں دے دیں اور اخبارات نے بھی لکھا ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ دوسری ڈاک سے روانہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ایک صاحب ہسٹری کے پروفیسر لکھنؤ کے رہنے والے مجھے کل ملے اور مجھ سے حالات پوچھتے رہے۔ان کو سلسلہ سے بہت دلچسپی تھی۔مجھ سے انہوں نے کہا کہ میں نے سب لیکچر سنے ہیں مگر ان میں سے بلا ریب سب سے اچھا اور اعلی لیکچر آپ لوگوں ہی کا تھا یعنی حضرت اقدس کا مضمون کیونکہ یہ باتیں حافظ صاحب کے لیکچر سے پہلے کی ہیں۔پھر مجھ سے پتا لے کر اتوار کے دن مکان پر آ کر ملنے اور معلومات حاص کرنے کا وعدہ کیا۔آج بھی سامعین میں موجود تھے چنانچہ پھر مجھ سے ملے اور حافظ صاحب کے لیکچر کے بعد درخواست کی کہ کیا اگر میں مکان پر آؤں تو یہ لیکچر مجھے پورا پڑھنے کو مل سکے گا ؟ میں نے اُمید دلائی اور ہاں میں جواب دیا۔حضرت اقدس کے مضمون کے ۴ صفحات اور بھیجتا ہوں۔دو میرے بھیجے ہوئے مضمون کے ساتھ لگوالیں اور دو حضرت میاں صاحب کے مضمون کے ساتھ لگوا دیں۔باقی صفحات انشاء اللہ تعالیٰ دوسری ڈاک سے ارسال کروں گا۔تصوف کا مضمون بھی اس ڈاک سے اسی لفافہ میں ارسال خدمت کرتا ہوں ملاحظہ