سفر یورپ 1924ء — Page 262
۲۶۲ اور بہت ہی متاثر ہوئے۔مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہتے ہیں۔کہ " میرا دل چاہتا تھا کہ جس طرح اہم اور افضح وہ مضمون ہے ویسا ہی پُر زور پڑھا بھی جاوے مگر اس خیال سے کہ حضور کا حجاب اُٹھ جاوے اور حضور کو بھی ربط خود پڑھنے کا ہو جائے بہتر یہی تھا کہ حضور خود ہی پڑھیں۔بہر حال مضمون خدا کے فضل سے اچھی طرح سے پڑھا گیا جس کے ابتدا میں بھی اور آخر پر بھی پادری صاحب نے اسی طرح تعریف اور انٹروڈیوس کرایا۔ایسا کرایا اور ایسے الفاظ بولے کہ جو ایک احمدی سے ہی امید کئے جاتے ہیں۔افسوس میں ساتھ نہ تھا ورنہ ان حالات کو بہت مفصل اور وضاحت سے لکھنے کی کوشش کرتا جس سے اس مجلس ہی کو گو یا دوستوں کے سامنے کر دکھاتا۔لیکچر سے فارغ ہو کر حضور پھر ہوٹل میں تشریف لے گئے اور چند نو مسلم مرد اور عورت بھی ساتھ گئے کیونکہ حضور نے دعوت دی تھی۔اول اول تو حضور کو بھی حجاب تھا اور ان نومسلموں کو بھی چنانچہ کچھ دیر تو نہ حضور بولے اور نہ وہ بولتے تھے۔آخر جناب چوہدری صاحب نے ان عورتوں کو اکسایا کہ موقع ہے کوئی بات کرو۔کچھ پوچھ لو اس سے تعلق بڑھتا ہے اور باتیں یاد رہتی ہیں۔ایک دوسری کو اور دوسری تیسری کو اشارہ کرتی تھی کہ تم بات کرو۔دومرد اور تین لیڈیاں یورپین احمدی شامل دعوت تھیں۔آخر خاموشی کا سلسلہ ٹوٹا۔عورتوں نے جرأت کی اور حضور کے سامنے شکایات کا ایک سلسلہ پیش کر دیا کہ ہماری خبر نہیں لی جاتی۔عیسائی بچپن سے مسیح کی تعلیمات اور کرامات ومعجزات سننے لگتے ہیں اور سوسائٹی ان کی مدد کرتی ہے۔ملک کی عام آبادی اور ماحول بھی ان کو کفر پر قائم رہنے کے سامان کثرت سے مہیا کرتے ہیں۔ہم مانتے ہیں اور سب کچھ مانتے ہیں مگر افسوس ہماری خبر گیری نہیں کی جاتی اور کچھ بتایا نہیں جاتا کہ جس چیز کو ہم نے قبول کیا ہے اس کی خوبیاں کیا ہیں اور برتری کیا۔اس کے حکم کیا ہیں اور اعمال کیا۔جن سے خدا ملتا ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کی ان باتوں کا ہمارے پاس کوئی جواب نہ تھا۔آخر ان کو تسلی دی گئی اور کہا گیا کہ جب تک مستقلاً مشن قائم نہ ہولنڈن کا مشنری آپ کے پاس آیا کرے گا اور وہ تعلیم بتایا کرے گا اور ( دین ) سکھایا کرے گا۔دوست بتاتے ہیں کہ رات کے گیارہ