سفر یورپ 1924ء — Page 263
۲۶۳ بارہ بجے تک حضور بالکل بے تکلف انگریزی زبان میں ان سے باتیں کرتے رہے اور ان کو مختلف نصائح بھی فرماتے رہے اور وہ لوگ نہایت شوق سے حضور کی باتوں کو سنتے۔سوالات کرتے اور اپنے ایمان تازہ کرتے رہے۔حضرت اقدس نے آج کھانے کی میز پر فرمایا کہ انگلستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ لوگ بہت ہی پکے احمدی ہیں۔پانچ سال سے برا بر احمدی ہیں۔اگر چہ ہماری طرف سے ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی مگر وہ لوگ اکثر ایسے ہیں کہ جہازوں پر اشتہارات اور ٹریکٹ لے کر جاتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں اور اس طرح سے وہ لوگ بچے احمدی مبلغ ہیں اور یہ عمل بغیر پختہ ایمان کے ممکن نہیں۔یہ حالات ہیں جو مجھے اکثر مکرم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے ملے اور دوسرے دوستوں نے بھی ان کی تصدیق کی ہے۔آج کھانے کی میز پر ہی حضرت مفتی صاحب کا خط بنام حافظ صاحب پڑھا گیا جس میں حافظ صاحب کی دمشق میں شادی کا ذکر کر کے حافظ صاحب کو سنایا گیا تھا کہ ان کے گھر کے صحن میں دمشق کا خط مفصل سنایا گیا جس میں آپ کی دمشقی شادیکی تجویز بھی تھی۔آپ کے گھر والوں نے سنا ہوگا اور کیا اثر ہوا ہو گا اس کا اندازہ آپ کر لیں۔یہ خط حضرت کی موجودگی میں پڑھا گیا۔حضور نے سن کر فر مایا کہ ہاں میرے گھر سے بھی آج ایک خط آیا ہے ان کو بھی ایسی خبر پہنچی ہے اور ان کو اس کی وجہ سے سخت تکلیف ہوئی ہے۔عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔ہم لوگ سفر میں ہیں اس کا بھی ان کو صدمہ ہے۔وہ ہر وقت خیریت اور خوشی کی خبروں کی امیدوار ہوتی ہیں۔ادھر سے ایسی خبر جا پہنچی تو ان کو صدمہ ہوا۔ہم خو دا گر گھر میں ہوں تو ان کو سمجھا بجھا کر ان کی دل جوئی کرنے کا موقع مل جاتا ہے مگر ایسی حالت میں ایسی خبر کا پہنچنا واقعی ان کے لئے موجب تکلیف اور باعث رنج ضرور ہوا ہوگا۔ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔میں تو پہلے بھی بارہا عرض کر چکا ہوں کہ میرے خطوط مختلف امور کی کھچڑی یا گداگری کی کشکول میں پڑھنے یا سنانے والے بزرگ یا شائع کرنے والے اصحاب انتخاب فرمالیا کریں۔باقی