سفر یورپ 1924ء — Page 261
۲۶۱ جمالی بھی تھا اور کسی قدر دقیق اور لاجیکل بھی تھا۔کچھ حصہ مولوی صاحب نے لکھے ہوئے مضمون کا پڑھا اور پھر زبانی تقریر شروع کر دی۔لوگوں نے شروع سے آخر تک توجہ اور سکون سے سنا۔ہمارے پورٹ سمجتھ کے نومسلم بھی گر جا اور اس کی سروس میں حسب معمول شامل تھے مگر بعض حرکات انہوں نے یہ دیکھ کر کہ حضرت اقدس اور ساتھی نہیں کرتے انہوں نے بھی چھوڑ دی تھیں۔مولوی صاحب کے مضمون کے بعد پادری صاحب نے حضرت سے دعا کی درخواست کی مگر حضرت اقدس یہ فرمانا چاہتے تھے کہ شام کے لیکچر کے بعد میں دعا کروں گا اور گفتگو چونکہ انگریزی میں تھی حضور جب آفٹر (after) کے لفظ پر پہنچے تو پادری صاحب نے سمجھ لیا کہ حضور اس کے بعد دعا کریں گے۔اس نے فوراً دعا کے واسطے ہاتھ اُٹھائے اور دعا کی۔اس تقریر کے بعد حضور ہوٹل میں تشریف لے گئے اور چائے اور نماز سے فارغ ہو کر پھر گر جا میں تشریف لے گئے۔ہوٹل میں حضرت کے ہمرکاب دو ایک نو مسلم بھی گئے اور باتیں کرتے رہے جو زیادہ تر تبلیغ اور نصائح پر مشتمل تھیں اور کچھ مقامی حالات سے متعلق معلومات پر۔کہتے ہیں کہ حضور نے اپنی لکھی ہوئی تقریر سے پہلے چند منٹ تک زبانی انگریزی میں گفتگو کی۔وہ گفتگو ایسی صاف اور سلیس انگریزی میں تھی کہ ساتھی بھی اس کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے توجہ سے سنا اور غور کیا اور اس نیت سے سنا کہ حضور کوئی غلطی تو نہیں کرتے مگر کوئی غلطی نہ پائی گئی حتی کہ مولوی محمد دین صاحب نے باہر آ کر حضرت کے حضور عرض کیا کہ حضور مبارک ہو کہ بہت ہی با محاورہ اور بالکل صحیح و فصیح انگریزی بولی گئی۔ہمارے ملک غلام فرید صاحب کہتے ہیں۔کہ ” میں نے غور کیا ہے اور سچے دل سے فیصلہ کیا ہے نہ اس وجہ سے کہ میں ایک احمدی اور حضرت اقدس کا مرید ہوں بلکہ محض ایک ثالث کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ میں ایسی انگریزی ہرگز نہیں بول سکتا اور کہ وہ کلام انگریزی حضور کی بہت ہی فصیح تھی۔لیکچر حضور نے پڑھا اور جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بتاتے ہیں کہ بعض جگہ غلطیاں بھی ہوئیں۔بعض فقرات پر زور دینے کی جگہ زور نہ دیا گیا۔بعض الفاظ غلط بھی پڑھے گئے جن کو حضرت اقدس محسوس کر کے پھر جلدی ٹھیک بھی کر لیتے تھے مگر ان باتوں کا اثر لوگوں پر ایسا نہ تھا کہ وہ اصل مضمون کی اہمیت اور فصاحت کو نہ سمجھ سکتے بلکہ انہوں نے مضمون پوری دلچپسی و توجہ سے سنا