سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 107 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 107

۱۰۷ دراصل یہ مکان ایک تاجر کا تھا۔ہم لوگ کرایہ پر رہتے تھے اس کی موت پر بہاء اللہ نے یہ مکان اس تاجر کے ورثا سے خرید لیا۔دو تہائی حصہ خریدا ایک تہائی حصہ اس کی اولاد کے قبضہ میں رہا۔وہ دو تہائی حصہ شوقی کے قبضہ میں ہے۔میں اس مکان میں کرایہ پر رہتا ہوں۔تاجر شامی تھا۔زائرین سے ہم کوئی ہد یہ یا نذرانہ قبول نہیں کرتے۔قبر کو سجدہ کرنے سے کوئی روکتا نہیں ہے اپنی خوشی سے کوئی چاہے تو سجدہ کرے یا نہ کرے مذہب کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔یہ آداب ہیں ورنہ سجدہ دراصل حضرت غائب ہی کے لئے مخصوص ہے۔عجم میں لوگ بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے تھے یہ سجدہ اس کا بقیہ ہے بطور احترام اور ادب کے۔( قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا کوئی جواب نہ دیا اور ٹال گیا اور منہ پھیر لیا۔دو مرتبہ پوچھا دونوں مرتبہ منہ پھیر لیا۔سوال استقبال قبلہ کا تھا ) کہا کہ کیا آپ کے ملک کے رواج کے مطابق میں بھی آپ سے کوئی سوال کر سکتا ہوں آپ نے تو مجھ سے کئی سوال کئے ہیں۔سوال: آپ قادیانی ہیں : ہاں ہم لوگ قادیانی ہیں اور سب قادیان سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ لندن کو جا رہے ہیں نمائش میں شرکت کی غرض سے۔جواب دیا گیا ہاں لندن میں بھی جائیں گے مگر نمائش اصل مقصد نہیں ہے۔اصل غرض نظام تبلیغ پر غور کرنا ہے۔پھر کہا میں نے مقطم میں آپ کا ذکر پڑھا تھا اس نے آپ کی بہت تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ قا دیانی علما ء کا ایک وفد لندن جا رہا ہے۔باب کا مزار حیفا میں ہے۔ان کے جسم کے متعلق کوئی جھگڑانہیں۔تحقیقی اور یقینی بات یہی ہے کہ انہی کا جسم مزار میں مدفون ہے۔بہاء اللہ پہلے عکہ میں تھا وہاں ہم لوگ نو سال تک قید رہے اس کے بعد یہاں بَهْجَہ میں آگئے۔میں صرف کتاب البیان دیتا ہوں۔کتاب اقدس کوئی نہیں صرف ایک نسخہ ہے جو فارغ نہیں کر سکتا۔کسی سے آپ کے واسطے منگایا تھا مگر اس نے بھی عذر کیا ہے کہ اس کی مجھے خود ضرورت ہے۔کتاب پر دستخط کرنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں میں روبرو ہدیہ پیش کر رہا ہوں اور آپ لے رہے ہیں پھر تحریر کی کیا ضرورت ہے۔کتاب ہی کافی یادگار ہے۔میں زیادہ دکھاوا کرنا نہیں چاہتا یہی کافی یادگار ہے کہ میں خود پیش کرتا ہوں اور کتاب دے دی۔آپ کے سوا اور کوئی ہوتا تو ہرگز ہرگز یہ نسخہ نہ دیتا۔