سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 108 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 108

آخر حیفا میں اپنے لڑکے کے نام ایک رقعہ لکھ کر دیا اور بہاء اللہ کا مزار دیکھنے کے متعلق خبر آئی کہ ان مالیوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ رات کے وقت ہم نہیں کھولتے۔دوبارہ سہ بارہ نوکر گیا مگر انہوں نے انکار پر ہی اصرار کیا۔آخر حضرت نے فرمایا خیر جانے دو۔ابتدائے نشست میں اس کا نو کر قہوہ لایا۔حضرت اقدس نے نہ پیا اور عذر پیچش کا کیا باقی لوگوں نے پی لیا۔رات کے گیارہ بج چکے تھے وہاں سے چلے آئے۔اس کا نوکر بخشیش کی غرض سے موٹروں تک آیا اور بہت کچھ لجاجت کرتا رہا۔اس کو حضرت اقدس نے انعام دلایا اور حضور وہاں سے رخصت ہوئے۔محمد علی کے پاس صرف ایک بڑھا نو کر اور ایک کتا تھا۔باقی سارے بھجن بھر میں کوئی آواز بھی انسان کی سنائی نہ دی۔نو بجے ہم لوگ وہاں پہنچے تھے دو گھنٹہ تک ٹھہرے مگر کچھ معلوم نہ ہوا کہ اس جگہ کوئی اور بھی آباد ہے یا کہ نہیں۔جلدی جلدی سمندر کے کنارے کنارے حیفا پہنچے۔حضرت اقدس اسی ہوٹل میں گرانڈ نصار ہوٹل کے کمرہ نمبر ۲۲ میں ٹھہرے جہاں پہلے ٹھہرے تھے باقی لوگ دار السرور ہوٹل میں ٹھہرے اور صبح کو ۸ بجے حیفا سے پورٹ سعید کی طرف روانہ ہوئے۔روانگی سے ایک گھنٹہ پیشتر حضرت اقدس نے شیخ صاحب عرفانی اور چوہدری صاحب کو حکم دیا تھا کہ محمد علی صاحب کے لڑکے کو کتا ہیں پہنچا دیں۔کتابوں کا بکس بلٹی ہو چکا تھا کتا بیں بھی نہ مل سکیں اور الٹے ہمارے دو بزرگ دوست حیفا کی نذر ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون بیروت سے حیفا کو آتے ہوئے سیدا اور سور کی دونوں بستیاں سمندر کے عین کنارے آباد نظر آئیں۔آج حضرت نے فیصلہ کیا ہے کہ قادیان واپس جا کر انشاء اللہ اپنی دفتری زبان عربی کر دی جائے گی۔خواجہ صاحب نے اپنی ولایت میں آمد کی خبریں مصر کے اخبارات میں بہت زور سے شائع کرائی ہیں اور بڑے دھڑنے کے مضامین لکھوائے ہیں۔دمشق میں حضرت اقدس نے حضرت مسیح موعوڈ کے رویا متعلقہ دمشق کی یہ تاویل فرمائی کہ الولد سرلا بیه یعنی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا دمشق میں آنا گویا خود حضرت مسیح موعود کا آنا ہے۔حضور نے یہ بھی فیصلہ فرمایا ہے کہ ایک عربی رسالہ ضرور جاری کر دینا چاہئیے جس کا اسٹاف قادیان میں ہوا شاعت مصر سے ہوا کرے اور بلا د عرب و شام، فلسطین اور عرب علاقوں وغیرہ میں