سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 106 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 106

1۔7 خاص وجہ کی بنا پر سمجھا جاوے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ لوگ کیسے ہیں۔ان کے چہروں سے ان کی حیثیت کا پتہ لگ سکتا ہے میرے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔رجال مساکین- تعداد کا سوال مجہول ہے۔ہمارا ملک غیر متمدن ہے ٹھیک حسابات نہیں رکھ سکتے۔تخمینہ دس ملا ئکین ( دس ملین ) کا ہے۔ثبوت کوئی نہیں صرف ایسا خیال ہے۔شوقی آفندی امریکہ کے بہائیوں کے متعلق مبالغہ کرتے ہیں میں مبالغہ میں دخل نہیں دیتا۔میرے اتباع بھی امریکہ میں ہیں۔میرالڑکا بھی امریکہ میں ہے۔الحق يُعْلُو ولا يعلى عليه - میں قیاس نہیں کر سکتا کہ زیادہ بہائی میرے ساتھ ہیں یا شوقی کے ساتھ (ایک کاغذ قلم دوات منگائی اور کہا کہ آپ لوگ نام لکھا دیں تا کہ تعارف میں سہولت ہو اور آئندہ رسل و رسائل میں بھی آسانی رہے اور کوئی اخبارات وغیرہ آپ کو بھیجے جا سکیں۔( پھر ہمارے سوالات پر ) رجسٹر مہماناں ہمارے ہاں کوئی نہیں ہے۔وصیت اولاً عباس آفندی کے نام تھی ان کے بعد میرے حق میں تھی۔عباس آفندی زندگی میں ہی حیفا چلے گئے تھے وہیں وفات پائی اور وہیں مدفون ہیں۔عکہ میں میرے مرید بہت کم ہیں۔عرب نہیں ایرانی ہیں۔خطوط کی آمد کا بھی میرے پاس کوئی حساب نہیں۔دفتر بھی کوئی نہیں۔مرید خط لکھتے ہیں ہر خط کا جواب میں خود دیتا ہوں۔فارسی اور عربی لکھ سکتا ہوں۔خط میر ا خوبصورت ہے آپ نے میرا خطا نہیں دیکھا۔( پھر چند قطعات اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے منگائے اور ایک ایک کر کے دکھائے واقعی بہت خوشخط لکھے ہوئے تھے۔) ہندوستان کے کسی بڑے بہائی کا نام میں نہیں بتا سکتا۔محمود زرقانی ہندوستان میں رہا ہے مگر اب وہ بھی آ گیا ہے۔ہندوستان میں میرا کوئی مرید نہیں ہے۔لندن میں بھی کوئی نہیں۔امریکہ میں ہیں۔مصر میں ہیں۔( مگر نام کسی کا نہیں بتایا بار بار پوچھنے کے باوجود) نیو یارک میں میرالٹر کا پندرہ سال سے رہتا ہے۔حیفا کے کسی بڑے بہائی کا نام نہیں بتایا۔حیفا میں بھی میرا لڑکا ہے بدیع اللہ آفندی نام ہے مگر مکان چونکہ حیفا میں بے ترتیب ہیں آپ کو تلاش میں دقت ہوگی۔گورنمنٹ سے کوئی وظیفہ نہیں ملتا نہ ملت کی طرف سے کچھ مقرر ہے اپنے ذاتی املاک ہی کفایت کرتے ہیں۔ہم لوگ درویشانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔شوقی کے متعلق نہیں جانتا کہ اس کو کوئی وظیفہ ملتا ہے یا نہیں۔