صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 262
۲۸۵ ہوشیار پور کے مقام پیر ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو جلسہ یوم مصلح موعود کے جواب دوران حضور نے اعلان فرمایا کہ میں آج اسی واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں کے قبضه و تصرف میں میری جان ہے کہ میں نے جو رویا بتائی ہے وہ مجھے اسی طرح آئی ہے۔۔۔میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے کشفی حالت میں کہا انا المسيح الموعُود مَشِيلة وَخَلِيفَتُه اور میں نے اس کشف میں خدا کے محکم سے یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں اس میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہو) کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹیا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کا نام پہنچانا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہی موعود ہوں اور کوئی موجود قیامت تک نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود آپ پر لکھتی ہو) کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اور موعود بھی آئیں گے۔" سلامتی سوال ۱۲۱۹ ہوشیار پور میں جلسہ سے خطاب کے بعد حضور کہاں تشریف لے گئے ؟ سید نا حضرت مصلح موعود (خدا آپ سے راضی ہو) خطاب کے بعد چلہ کشی والے جواب مقدس دو مبارک کمرہ میں تشریف لے گئے۔اور قبلہ رخ دو زانو بیٹھ کر تسبیح و تحمید کرنے لگے۔جگہ کی تنگی کی وجہ سے حضرت خلیفہ ثانی کے علاوہ صرف پینتیس احباب کمرہ میں تشریف لے گئے اور بقیہ احباب باہر گلی اور ساتھ کے میدان میں کھڑے رہے جب کمرہ بھر گیا تو حضرت مصلح موعود ( خدا آپ سے راضی ہو) نے ارشاد فرمایا کہ اس موقع پر کسی ذاتی غرض کے لئے ڈھانہ کی جائے، اس کے بعد حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں وہ تمام احمدی احباب بھی شریک ہوئے جو باہر کھڑے تھے۔دعا نہایت گریہ زاری سے قریب دس منٹ ہوئی۔سوال ۱۲۲۰ ہوشیار پور کے علاوہ اور کن مقامات پر اس اعلان کے بعد جلسے کئے گئے ؟ جواب لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں بھی جلسے منعقد کئے گئے جن میں بنفس نفیس خود حضرت مصلح موعود خدا آپ سے راضی ہو نے شرکت فرمائی اور اپنے دعوتی مصلح