سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 27

27 سبیل الرشاد جلد چہارم رہے ہیں، جو سکول جانے کی عمر کے ہیں اور سکول نہیں جار ہے۔پھر وجہ معلوم کریں کہ کیا وجہ ہے وہ سکول نہیں جا ر ہے۔مالی مشکلات ہیں یا صرف نکما پن ہی ہے۔اور ایک احمدی بچے کو تو توجہ دلانی چاہئے کہ اس طرح وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔مثلاً پاکستان میں ہر بچے کے لئے خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی تھی کہ ضرور میٹرک پاس کرے۔بلکہ اب تو معیار کچھ بلند ہو گئے ہیں اور میں کہوں گا کہ ہر احمدی بچے کو ایف۔اے ضرور کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سیکر ٹری تربیت یا اصلاح و ارشاد ہے ان کو بھی بہت فعال کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ سیکرٹریان تربیت یا اصلاح وارشاد بعض جگہوں پر کہلاتے ہیں، اپنے معین پروگرام بنا کر نچلے سے نچلے لیول سے لے کر مرکزی لیول تک کام کریں جس طرح کام کرنے کا حق ہے تو امور عامہ کے مسائل بھی اس تربیت سے حل ہو جائیں گے، تعلیم کے مسائل بھی کافی حد تک کم ہو جائیں گے، رشتہ ناطہ کے مسائل بھی بہت حد تک کم ہو جائیں گے۔یہ شعبے آپس میں اتنے ملے ہوئے ہیں کہ تربیت کا شعبہ فعال ہونے سے بہت سارے شعبے خود ہی فعال ہو جاتے ہیں اور جماعت کا عمومی روحانی معیار بھی بلند ہوگا۔تو یہ جو حدیث ہے، لوگوں کی ضروریات پوری کرنے سے یہ مراد ہے کہ یہ عہدے تمہارے سپرد ہیں ان عہدوں کی ذمہ داری کو سمجھو اور ان کو ادا کرو۔جب اس طریق سے ہر عہدیدار اپنے اپنے شعبہ کی ذمہ داریاں ادا کرے گا تو لوگوں کے دلوں میں آپ کے لئے مزید عزت واحترام پیدا ہوگا اور جیسا کہ میں نے کہا جماعت کا عمومی معیار بھی بلند ہوگا۔عہدیدار محبت اور پیار سے حکم دے اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ کا ایک اقتباس ہے وہ میں سناتا ہوں۔فرمایا: " دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا حکم ماننالوگوں کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے۔اور الہامی کتابیں تو یہ کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو۔مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اس لئے کرو، اس لئے کرو۔گویا وہ خالی حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کر دیتا ہے۔تو سمجھانا اور سمجھا کر قوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا، یہ کامیابی کا ایک اہم گر ہے۔اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔چنانچہ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ط (لقمان: 20 ) کہ تمہارے ساتھ چونکہ کمزور لوگ بھی ہوں گے اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔بے شک تم آگے بڑھنے کی کوشش کر ومگر اتنے تیز بھی نہ ہو جاؤ کہ کمز ور طبائع بالکل رہ جائیں۔