سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 26
26 سبیل الرشاد جلد چہارم کی سفارش کر دو نہیں، بلکہ جو معاملہ عاملہ کے سامنے پیش کیا ہے اس کی مکمل تحقیق کریں۔اگر شک کا فائدہ ہل سکتا ہے تو اس کو ملنا چاہئے جس پر الزام لگ رہا ہے۔اگر وہ شخص مجرم ہے تو شاید اس کو یہ احساس ہو جائے کہ گو میں نے جرم تو کیا ہے لیکن شک کی وجہ سے مجھ سے صرف نظر کیا گیا ہے۔تو آئندہ اس کی اصلاح بھی ہوسکتی ہے یا کم از کم مجلس عاملہ یا ایسے عہد یدار اس حدیث پر تو عمل کرنے والے ہوں گے جو حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو سزا سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرو۔اگر اس کے بچنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو معاملہ رفع دفع کرنے کی سوچو۔امام کا معاف اور درگزر کرنے میں غلطی کرنا بہزاد ینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔(ترمذی ابواب الحدود باب ما جاء في درء الحدود) عہدیدار اپنے فرائض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہے۔۔۔۔بحیثیت عہد یدار تم پر بڑی ذمہ داری ہے۔بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے صرف یہ نہ سمجھو کہ عہد یدار بن کر ، صرف عاملہ میں بیٹھ کر جو معاملات لڑائی جھگڑے یا لین دین کے آتے ہیں ان کو ہی نمٹانا مقصود ہے۔بلکہ ہر عہدیدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ہر سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔اب سیکرٹری امور عامہ کا صرف یہ کام ہی نہیں ہے کہ آپس کے فیصلے کروائے جائیں یا غلط حرکات اگر کسی کی دیکھیں تو انہیں دیکھ کر مرکز میں رپورٹ کر دی جائے۔اس کا یہ کام بھی ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بیکار افراد جن کو روزگار میسر نہیں، خدمت خلق کا بھی کام ہے اور روزگار مہیا کرنے کا بھی کام ہے، اس کے لئے روزگار کی تلاش میں مدد کرے۔بعض لوگ طبعا کاروباری ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار کریں۔اگر ایسے افراد میں صلاحیت دیکھیں تو تھوڑی بہت مالی مددکر کے معمولی کا روبار بھی ان سے شروع کروایا جا سکتا ہے۔اور اگر ان میں صلاحیت ہوگی تو وہ کاروبار چمک بھی جائے گا اور آہستہ آہستہ بہتر کاروبار بن سکتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو پاکستان میں بھی سائیکل پر پھیری لگا کر یا کسی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کے، ٹوکری رکھ کر یا چند کپڑے کے تھان رکھ کر اس وقت دوکانوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔تو یہ ہمت دلانا بھی، توجہ دلانا بھی، ایسے لوگوں کو پیچھے پڑ کر کہ کسی نہ کسی کام پر لگیں یہ بھی جماعتی نظام یا جماعتی نظام کے عہدیدار کا کام ہے جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے یعنی سیکرٹری امور عامیہ۔پھر سیکرٹری تعلیم ہے۔عموماً سیکرٹریان تعلیم جماعتوں میں اتنے فعال نہیں جتنے ان سے توقع کی جاتی ہے یا کسی عہدیدار سے توقع کی جاسکتی ہے۔اور یہ میں یونہی اندازے کی بات نہیں کر رہا، ہر جماعت اپنا اپنا جائزہ لے لے تو پتہ چل جائے گا کہ بعض سیکرٹریان پورے سال میں کوئی کام نہیں کرتے۔حالانکہ مثلاً سیکرٹری تعلیم کی مثال دے رہا ہوں ،سیکرٹری تعلیم کا یہ کام ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بچوں کی فہرست بنائے جو پڑھ