سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 28
سبیل الرشاد جلد چہارم 28 دوسرے جب بھی تم کوئی حکم دو، محبت پیار اور سمجھا کر دو۔اس طرح نہ کہو کہ "ہم یوں کہتے ہیں "۔( تو قرآن شریف کی تعلیم تو یہ ہے کہ محبت اور پیار سے حکم دو، نہ کہ آرڈر ہو۔بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اسے سمجھ سکیں۔اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ طَ کے یہی معنی ہیں۔گویا میانہ روی اور پر حکمت کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی روح پیدا کیا کرتی ہیں۔اور پر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔یہی وقت ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے" عہد یداران لوگوں میں نظام جماعت کا احترام پیدا کریں اصل میں تو امراء، صدران، عہدیداران یا کارکنان جو بھی ہیں ان کا اصل کام تو یہ ہے کہ اپنے اندر بھی اور لوگوں میں بھی نظام جماعت کا احترام پیدا کیا جائے۔اور اسی طرح جماعت کے تمام افراد کا بھی یہی کام ہے کہ اپنے اندر بھی اور اپنی نسلوں میں بھی جماعت کا احترام پیدا کریں۔نظام جماعت کا احترام پیدا کریں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ جو نصائح میں عہد یداران کے لئے کرتا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف عہدیداران کے لئے ہیں بلکہ تمام افراد جماعت مخاطب ہوتے ہیں اور ان کو بھی یہ نصائح ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کل کو ایک عہدیدار کے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانے کی وجہ سے، یا بیمار ہو جانے کی وجہ سے، یا بڑھاپے کی وجہ سے، یا فوت ہو جانے کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص اس عہدے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔پھر انتخابات بھی ہوتے ہیں، عہدے بدلتے بھی رہتے ہیں۔تو ہر ایک کو اپنے ذہن میں یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ جب بھی وہ عہدیدار بنیں گے وہ ایک خادم کے طور پر خدمت کرنے کے لئے بنیں گے۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ عہد یدار بدلے بھی جاتے ہیں ، خلیفہ وقت خود بھی اپنی مرضی سے بعض عہدوں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔تو بہر حال نئے آنے والے شامل ہوتے ہیں اور نئے آنے والوں کی بھی یہی سوچ ہونی چاہئے اور اگر بنیادی ٹریننگ ہوگی تو اس سوچ کے ساتھ جو عہدہ ملے گا تو ان کو کام کرنے کی سہولت بھی رہے گی۔تو جیسا کہ میں نے کہا ہر شخص کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے کہ اس نے نظام جماعت کا احترام کرنا ہے اور دوسروں میں بھی یہ احترام پیدا کرنا ہے۔تو خلیفہ وقت کی تسلی بھی ہوگی کہ ہر جگہ کام کرنے والے کارکنان، نظام کو سمجھنے والے کارکنان ، کامل اطاعت کرنے والے کارکنان میسر آسکتے ہیں تو بہر حال