سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 25
25 سبیل الرشاد جلد چہارم گیا۔یعنی یہ تو بچوں کا کھیل ہو گیا کہ ایک معصوم کو اتنی سخت سزا دلوار ہے ہیں اور پھر بھولے بن کر کہ دیا کہ غلطی سے نام چلا گیا۔تو ایسے غیر ذمہ دار صدر کو تو میں نے مرکز کو کہا ہے کہ فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔اور آئندہ بھی جو کوئی ایسی غیر ذمہ داری کا ثبوت دے گا اس کو پھر تا زندگی کبھی کوئی جماعتی عہدہ نہیں ملے گا۔ایسے شخص نے ہمیں بھی گناہگار بنوایا۔اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔حدیث میں آتا ہے حضرت معقل بن بسیار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی ، اپنے فرض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا اور اسے مسلم کتاب الامارہ باب فضلة الامام العادل۔۔۔۔۔) بہشت نصیب نہیں کرے گا۔تم میں سے ہر ایک نگران ہے پھر ایک حدیث ہے۔ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اس سے اپنی رعایا کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔امیر نگران ہے اور آدمی اپنے گھر کا نگران ہے، عورت بھی اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اولاد کی نگران ہے۔پس تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کس طرح نبھایا ہے۔تو تمام عہدیداران اپنے اپنے دائرہ عمل میں نگران بنائے گئے ہیں۔میں نے پہلے بھی ذیلی تنظیموں کا بھی ذکر کیا ہے تو بعض دفعہ بعض رپورٹیں ذیلی تنظیموں کی معلومات پر مبنی ہوتی ہیں، ان کی طرف سے آ رہی ہوتی ہیں۔تو اگر ہر لیول پر اس نگرانی کا صحیح حق ادا نہیں ہو رہا ہوگا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر تم بطور نگران اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کر رہے تو تم پوچھے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم کی حیثیت سے حاضر ہونا اور پوچھے جانا بذات خود ایک خوف پیدا کرنے والی بات ہے لیکن یہاں جو فر مایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تم پوچھے جاؤ گے اور شاید نرمی کا سلوک ہو جائے اور جان بچ جائے بلکہ فرمایا کہ جنت ایسے لوگوں پر حرام کر دی جائے گی۔پس بڑا شدید انذار ہے، خوف کا مقام ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر عہدیدار کو ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔عہدیداران کسی کے خلاف جلدی میں رائے قائم نہ کریں یہ بات بھی یا درکھنی ضروری ہے کہ ذیلی تنظیموں کی عاملہ ہو، لجنہ ، انصار، خدام کی یا جماعت کی عاملہ، کسی شخص کے بارہ میں جب کوئی رائے قائم کرنی ہو تو اس بارہ میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔چاہے اس شخص کے گزشتہ رویہ کے بارہ میں علم ہو کہ کوئی بعید نہیں کہ اس نے ایسی حرکت کی ہو اس لئے اس کو سزا دے دو یا سزا