سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 406

406 سبیل الرشاد جلد چهارم کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔بعض ایسی مثالیں بھی سامنے آجاتی ہیں کہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے یہ غلط کام کیا اور یہ غلط فیصلہ کیا یا فلاں فیصلے کو اس طرح ہونا چاہئے تھا۔بعض قضا کے فیصلوں پر اعتراض ہوتے رہتے ہیں۔یا فلاں شخص کو فلاں کام پر کیوں لگایا گیا ؟ اس کی جگہ تو فلاں شخص ہونا چاہئے تھا۔خلیفہ وقت کی فلاں فلاں کے بارے میں تو بڑی معلومات ہیں، علم ہے، اور فلاں شخص کے بارے میں اُس نے باوجود علم ہونے کے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔اس قسم کی باتیں کرنے والے چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن ماحول کو خراب کرتے ہیں۔اگر مربیان اور ہر سطح کے عہدیداران ، پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں، ہر تنظیم کے اور جماعتی عہدیداران اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں تو بعض دلوں میں جو شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، کبھی پیدا نہ ہوں۔خاص طور پر مربیان کا یہ کام ہے کہ انہیں سمجھا ئیں اور بتائیں کہ تمام برکتیں نظام میں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو جب کسی قوم پر لعنت ڈالنا چاہتا ہے تو نظام کو اٹھا لیتا ہے۔پس جب یہ باتیں ہر ایک کے علم میں آجائیں گی تو بعض لوگ جن کو ٹھو کر لگتی ہے وہ ٹھو کر کھانے سے بچ جائیں گے۔ایسا طبقہ چاہے وہ چند ایک ہی ہوں ہمیشہ رہتا ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہےاور ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا ہے کہ خلیفہ خا تو نہیں ہوتا، وہ بھی غلطی کر سکتا ہے، جیسا کہ عام آدمی غلطی کر سکتا ہے، ٹھیک ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس کا بڑا اچھا جواب دیا ہے۔اور یہ جواب جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے دیا، ہر وقت اور ہر دور کے لئے ہے۔اگر خلافت برحق ہے، اگر خلافت پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام دیا گیا ہے تو آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلفاء جن امور کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ہم ان امور کو دنیا میں قائم کر کے رہتے ہیں۔" الفضل انٹر نیشنل 21 فروری 2014ء) تمام عہدیداران پہلے اپنے جائزے لیں عہد یداران اپنے آپ کو اولوالامر سمجھ کر اپنی اطاعت کروانے کے اس وقت تک حقدار نہیں جب تک خلافت کی کامل اطاعت اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے اور تاویلیں کرنے سے پر ہیز نہیں کرتے ا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 06 جون 2014 ء جرمنی میں فرمایا: اونٹ میں اطاعت کا سبق یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔جہاں بھی اور جس معاملے میں بھی ہمیں رہنمائی کی ضرورت ہو، کسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہو۔قرآن کریم میں بیان فرمودہ حکمت کے موتیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہو یا ان کی تلاش ہو تو ہمیں