سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 405
405 سبیل الرشاد جلد چہارم نہیں۔نشان ظاہر ہوں گے اور انسان پھر دیکھتا ہے۔لیکن تلقین کرنے والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُن کی اپنی حالت بھی ایسے معیار کی ہو جہاں وہ اپنی قوت ارادی کے اعلیٰ معیاروں کی تلاش میں ہوں۔اور عملی طور پر بھی اُن کے عمل اور علم میں مطابقت پائی جاتی ہو۔اس زمرہ میں شمار نہ ہوں جو کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔بہر حال جماعتوں کو بار بار درسوں وغیرہ میں ایمان میں مضبوطی پیدا کرنے اور عملی حالت بہتر کرنے کے لئے علمی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔پس اگر ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں کام شروع کر دے تو ایک واضح تبدیلی نظر آ سکتی ہے۔اس زمانے میں جبکہ علم کے نام پر سکولوں میں مختلف برائیوں کو بھی بچوں کو بتایا جاتا ہے ہمارے نظام کو بہت بڑھ کر بچوں اور نو جوانوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ماں باپ کو اپنی حالتوں کی طرف نظر کرتے ہوئے اُس علم کے نقصانات سے اپنے آپ کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کو علم کی آگاہی کے نام پر بچپن میں سکول میں دیا جاتا ہے۔ماں باپ کو بھی پتا ہونا چاہئے تا کہ اپنے آپ کو بھی بچائیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں۔یہاں بہت چھوٹی عمر میں بعض غیر ضروری باتیں بچوں کو سکھا دی جاتی ہیں اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اچھے برے کی تمیز ہو جائے۔جبکہ حقیقت میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی بلکہ بچوں کی اکثریت کے ذہن بچپن سے ہی غلط سوچ رکھنے والے بن جاتے ہیں۔کیونکہ اُن کے سامنے اُن کے ماں باپ کے نمونے یا اُس کے ماحول کے نمونے برائی والے زیادہ ہوتے ہیں ، اچھائی والے کم ہوتے ہیں۔پس مربیان ، عہد یداران، ذیلی تنظیموں کے عہدیداران، والدین، ان سب کو مل کر مشترکہ کوشش کرنی پڑے گی کہ غلط علم کی جگہ صحیح علم سے آگاہی کا انتظام کریں۔سکولوں کے طریق کو ہم روک نہیں سکتے۔وہاں تو ہم کچھ دخل اندازی نہیں کر سکتے۔لیکن گندگی اور بے حیائی کا فرق بتا کر، بچوں کو اعتماد میں لے کر اپنے عملی نمونے دکھا کر ماحول کے اثر سے بچا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو احسن رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا الفضل انٹر نیشنل 14 فروری 2014ء) فرمائے۔" ہر تنظیم کے عہدیدار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بعض دلوں میں خلافت کے بارے پیدا ہونے والے شکوک وشبہات دور کرے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31 جنوری 2014 ء کے خطبہ جمعہ میں عملی اصلاح کے مضمون کو جا ری رکھتے ہوئے عہدیداران کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف یوں توجہ دلائی: خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے۔اور پھر عہد یداران