سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 407

407 سبیل الرشاد جلد چهارم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کی کتب اور ارشادات مل جاتے ہیں جو ہمارے مسائل حل کرتے ہیں۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں جمعہ پر اکثر ہم دوسری رکعت میں پڑھتے ہیں۔سورۃ غافیہ کی یہ آیات پڑھی جاتی ہیں۔ان میں پہلی آیت جو میں نے پڑھی ہے یعنی أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلقت۔کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کئے گئے ؟ اس کی جو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے وہ اپنی گہرائی اور خوبصورتی اور علم وعرفان اور پھر عملی حالت پر منطبق کرنے کا ایک عجیب اور جدا نقشہ کھینچتی ہے۔آپ علیہ السلام نے اس آیت سے نبوت اور امامت کی اطاعت کے مسئلہ کو حل فرمایا ہے اور نبوت اور امامت کے ساتھ جڑنے والوں کے لئے جو بنیادی چیز ہے یعنی اطاعت اور کامل اطاعت اس کو آپ نے ایل یعنی اونٹ کے لفظ سے یا اونٹوں کے لفظ سے جوڑ کر وضاحت فرمائی ہے۔بظاہر یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ اونٹوں اور نبوت اور امامت کی اطاعت کا کیا جوڑ ہے لیکن جس طرح کھول کر آپ نے تشریح فرمائی ہے اس سے اس جوڑ کا حیرت انگیز ادراک ہمیں بھی حاصل ہوتا ہے۔آپ کی تفسیر پہلے پیش کرتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ " قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (الغاشيه : 18) یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے ایل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے اس میں کیا ستر ہے؟ کیوں الی الحمل بھی تو ہوسکتا تھا؟ حمل بھی تو اونٹ کو کہتے ہیں۔فرمایا کہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اہل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجمالی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور حمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا اسی لئے اہل کے لفظ کو پسند فرمایا۔اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوت ہے۔دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے۔جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔گویا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے۔اس لئے الله تعالى نے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الإِبل کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جا رہے ہوں۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔یہ پہلی بات نہیں یا د رکھنی چاہئے۔اس سے مطابقت کے لئے تمدنی اور اتحادی حالت قائم رکھنے کے لئے ایک امام ہو۔” پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک