سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 371
371 سبیل الرشاد جلد چہارم کریں گی کہ وہ اپنے ممبران کو تلقین کریں۔اس سے زیادہ سیکرٹریانِ مال کی مدد ذیلی تنظیم کا کام نہیں ہے۔ذیلی تنظیمیں اپنے ممبران کو توجہ دلا سکتی ہیں کہ سیکرٹریان مال سے تعاون کریں اور چندے کی روح کو سمجھیں۔بہر حال چندے کی روح کو سمجھانا تو ذیلی تنظیموں کا کام ہے۔لیکن سیکرٹریانِ مال اس بات سے بری الذمہ نہیں ہو جاتے کہ ہم نے ذیلی تنظیموں کو کہا تو انہوں نے ہماری مدد نہیں کی۔یہ ذمہ داری اُن کی ہے اور انہی کو نبھانی پڑے گی۔سیکرٹریان مال کا کام ہے کہ ہر مقامی سطح پر ، ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش کریں۔اب تو فون ہیں، دوسرے ذریعے ہیں ، سواریاں ہیں۔یہاں یورپ میں تو اور بھی زیادہ بڑے وسائل ہیں۔پاکستان میں ایسے سیکرٹریان مال بھی تھے جو دن کو اپنا کام کرتے تھے اور پھر شام کے وقت کام ختم کر کے رات کو گھروں میں پھرتے تھے۔بڑے شہر ہیں، کراچی ہے لاہور ہے سائیکل پر سوار ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہیں اور نصیحت کر رہے ہیں، اس طرف توجہ دلا رہے ہیں۔تو یہاں تو اب بہت ساری سہولتیں آپ کو میسر ہیں اور پھر بھی کام نہیں کرتے۔بلکہ بعض سیکرٹریان مال کی یہاں بھی مجھے شکایات پہنچی ہیں کہ ان کے اپنے چندے معیاری نہیں ہیں۔اگر اپنے چندے معیاری نہیں ہوں گے تو دوسروں کو کیا تلقین کر سکتے ہیں۔اور پیار اور نرمی سے یہ کام کرنے والا ہے۔مالی قربانی کی اہمیت واضح کریں۔بعض سخت ہو جاتے ہیں۔ایک دفعہ کوئی انکار کرتا ہے تو دوسری دفعہ جائیں، تیسری دفعہ جائیں، چوتھی دفعہ جائیں لیکن ماتھے پر بل نہیں آنا چاہئے۔دینے والے بھی یہ یا درکھیں کہ کسی شخص کو یہ زعم نہیں ہونا چاہئے کہ شاید اُس کے چندے سے نظامِ جماعت چل رہا ہے اور اس لئے سیکرٹری مال بار بار اُس کے پاس آتا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کبھی مالی تنگی نہیں آئے گی اور کام چلتے رہیں گے۔انشاء اللہ تعالی۔ہاں آپ کو فکر تھی تو اس بات کی تھی کہ مال کا خرچ جو ہے وہ صحیح رنگ میں ہوتا ہے کہ نہیں؟ ( ماخوذ از رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319) اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ خرچ حتی الوسع صحیح طریقے پر ہو۔بعض جگہ خرچ میں لا پرواہی ہو تو توجہ بھی دلائی جاتی ہے۔جماعت میں آڈٹ کا نظام بھی اس لئے قائم ہے۔اور پھر یہ امیر جماعت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اخراجات پر گہری نظر رکھے۔یہ نہیں کہ جو بل آیا اُس کو ضرور پاس کر دینا ہے۔آڈٹ کے نظام کو فعال کرے اور اس طرح فعال کرے کہ آڈیٹر کو آزادی ہو کہ جس طرح وہ کام کرنا چاہتا ہے اپنی مرضی سے کرے۔اُس کو پورے اختیار دیئے جائیں۔خرچ کے بارے میں میں بتادوں کہ ایم ٹی اے کا ایک بہت بڑا خرچ ہے اور ایم ٹی اے کے لئے مد تربیت کے لحاظ سے علیحدہ تحریک بھی کی جاتی ہے۔گو کہ اب اخراجات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ صرف اتنی رقم سے تو ایم ٹی اے کے خرچ نہیں چل سکتے۔تو جو جماعت کا باقی مجموعی بجٹ ہے اُس میں سے بھی رقم خرچ کی جاتی ہے کیونکہ ساری دنیا میں ایم ٹی اے کے لئے ہمارے چار پانچ سیٹیلائٹ کام کر رہے ہیں۔تو اس