سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 370
370 سبیل الرشاد جلد چہارم تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت قدرشناس اور بردبار ہے۔پس ان آیات سے واضح ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور فرمایا کہ تمہارا خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو بندے کو اُس کی قربانی کے بدلے میں کئی گنا بڑھا کر لوٹاتی ہے۔اور لوگ ایسے متعدد واقعات مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی راہ میں چندہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیا۔اس بارے میں کئی دفعہ میں مختلف واقعات بھی بیان کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اور بے نیاز ہے، اُس کو ہمارے پیسے کی ضرورت نہیں۔اصل میں تو ہمیں پاک کرنے کے لئے ہمارے اطاعت کے معیار دیکھنے کے لئے ، ہمیں تقویٰ کی راہوں کی تلاش کرتا دیکھنے کے لئے ، ہمارے مال کی قربانی کے دعوئی کے معیار کو دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُس کی راہ میں خرچ کرو، اُس کے دین کے پھیلانے کے لئے ، بڑھانے کے لئے خرچ کرو۔پس ہر احمدی کو اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم چندہ کیوں دیتے ہیں؟ اگر کسی سیکرٹری مال یا صدر جماعت کو خوش کرنے کے لئے ، یا اُس سے جان چھڑانے کے لئے چندہ دیتے ہیں تو ایسے چندے کا کوئی فائدہ نہیں۔بہتر ہے نہ دیا کریں۔اگر دوسرے کے مقابل پر آ کر صرف مقابلے کی غرض سے بڑھ کر چندہ دیتے ہیں تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔غرض کہ کوئی بھی ایسی وجہ جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ چندہ دینے کی ہو، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں رڈ ہو سکتی ہے۔پس چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خدا تعالیٰ کا اُن پر احسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے ، نہ کہ یہ احسان کسی شخص پر اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے کی کوشش کر رہا ہے۔الہی جماعتوں کے لئے مالی قربانی انتہائی اہم چیز ہے۔اس لئے میں نے تمام جماعتوں کو یہ کہا ہے کہ نو مبائعین اور بچوں کو وقف جدید اور تحریک جدید میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کریں، چاہے ایک پیسہ دے کر کوئی شامل ہوتا ہو، تا کہ انہیں عادت پڑے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔۔۔۔پس سیکر ٹریان مال کو اس طریق پر افراد جماعت کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے کہ جب مالی قربانی ہو تو تقویٰ اور ایمان پختہ ہوتا ہے۔اسی طرح مربیان کو بھی اس بارے میں جب بھی موقع ملے نصیحت کرنی چاہئے۔اس کے لئے مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔پس ہر سطح پر سیکر ٹر یان مال کو فعال ہونے کی ضرورت ہے۔سیکرٹریان مال کا کام ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھائیں اور ہر فرد تک اُن کی ذاتی approach ہو۔یہ نہیں کہ ذیلی تنظیموں کے سپرد کر دیا جائے کہ ذیلی تنظیمیں اس میں مدد کریں۔ذیلی تنظیمیں صرف اس حد تک مدد