سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 364
364 سبیل الرشاد جلد چہارم ایسے لوگ موجود ہیں، چاہے تھوڑی تعداد ہو، ایک تعداد ہے جس کی طرف ہمیں فکر سے توجہ دینی چاہئے اور اس کے لئے خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کی تنظیموں کو بھی اپنے پروگرام بنا کر اس پر کام کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔اسی طرح جماعتی نظام بھی ایسے لوگوں کو دھتکارنے کے بجائے یا یہ کہنے کے بجائے کہ ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی انہیں قریب لانے کی کوشش کرے۔سوائے اُن کے جو کھل کر کہہ دیتے ہیں کہ میرا تمہارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن ایسے لوگوں کے بارے میں بھی جو جماعت کا main جماعتی نظام،main stream ہے، اُس کو چاہئے کہ ذیلی تنظیموں کو ان لوگوں کی معلومات دے دیں، کیونکہ بعض بڑی عمر کے عہد یداران کے سخت رویے کی وجہ سے بھی لوگ ایسے جواب دے دیتے ہیں۔ذیلی تنظیمیں ان کے ہم عمر یا کچھ حد تک ہم مزاج لوگوں کے ذریعہ سے اُن کی اصلاح کی طرف توجہ دے سکتی ہیں۔اور جہاں یہ طریق اپنایا گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی بھی ہوئی ہے۔بعض جگہ بعض سیکر ٹریان تربیت ایسے بھی ہیں جنہوں نے تربیت کے لئے ایسے لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے پروگرام بنائے اور اس کا اچھا اور بڑا خاطر خواہ اثر ہوا۔بڑی اچھی response ان لوگوں سے ملی۔بہر حال کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم نے حتی الوسع ہر احمدی کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔یہ ہر عہدیدار کی ذمہ داری ہے، ہر مربی کی ذمہ داری ہے اور ہر سطح پر ذیلی تنظیموں اور جماعتی نظام کی ذمہ داری ہے۔اس اصولی بات کے بعد جو پہلی بات میں کرنا چاہتا ہوں ، وہ جیسا کہ میں نے کہا، ہر احمدی کو پتہ ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے؟ اور یہ کہ آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ اس کے لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی میں بیان کروں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدرلوگ گواہ ہیں کہ اگر اُن کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد اس قدر ہو کہ رُوئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے“۔فرمایا کہ : ” اس قدر صورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 9۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اور یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کی بات نہیں ہے بلکہ آپ آنحضرت صلی