سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 363
363 سبیل الرشاد جلد چہارم کے لئے اہم ہیں اسی طرح دنیا کی دوسری جماعتوں کے لئے بھی اہم ہیں۔یا نئی نسل اور اُن افراد کے لئے بھی ان کا جاننا ضروری ہے جو زیادہ ایکٹو (active) نہیں ہیں، زیادہ تر جماعتی کاموں میں involve نہیں ہیں۔یہ ایسے امور ہیں کہ جن کو عموماً کھول کر بیان نہیں کیا جاتا۔یا مربیان اور عہد یداران افراد جماعت کے سامنے اس طرح احسن رنگ میں ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہئے۔جس کی وجہ سے بعض ذہنوں میں، خاص طور پر نو جوانوں میں سوال اُٹھتے ہیں لیکن وہ سوال کرتے نہیں۔اس لئے کہ جماعتی ماحول یا اُن کا عزیز رشتے دار یا والدین ان سوالوں کو برا سمجھیں گے یا وہ کسی مشکل میں پڑ جائیں گے۔حالانکہ چاہئے تو یہ کہ مربیان اور مبلغین سے سوال کر کے یا عہد یداروں سے جو علم رکھتے ہیں اُن سے سوال کر کے، یا اپنی ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں سے سوال کر کے پوچھیں۔خدام الاحمدیہ اور لجنہ سے تعلق رکھنے والوں اور تعلق رکھنے والیوں کا اپنی اپنی متعلقہ ذیلی تنظیموں سے اس طرح تعلق ہونا چاہئے کہ آسانی سے سوال کر سکیں تا کہ معلومات میں بھی اضافہ کریں اور کوئی شکوک و شبہات ہیں تو وہ بھی دور کریں یا مجھے بھی لکھ سکتے ہیں۔بعض لوگ مجھے دوسرے ملکوں سے بھی اور بعض دفعہ یہاں سے بھی لکھتے ہیں اور انتہائی ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے لکھتے ہیں تو اُن کے سوالوں کے جواب دیئے بھی جاتے ہیں۔بہر حال یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض عہدیدار بھی اپنے فرائض اور دائرہ کار کے بارے میں تفصیل نہیں جانتے اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کرتے۔جو باتیں میں بیان کرنے لگا ہوں اس میں ایک پہلو تو عقیدے اور اُس کے بارے میں علم سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ ہمیں علم ہونا چاہئے کہ ہم کیوں کسی عقیدے پر قائم ہیں اور اسی طرح بعض باتیں جو ہمیں کرنے کے لئے کہا جاتا ہے، جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، اُن کے بارے میں بھی علم ہو کہ کیوں ہمیں کہا جاتا ہے اور کیوں یہ ایک احمدی مسلمان کے لئے ضروری ہے؟ اس میں مالی قربانی ہے، اس بارے میں لوگ تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔دوسرے اس تعلق میں عہدیداران کی بعض انتظامی ذمہ داریاں ہیں اُن کو کس طرح نبھانا ہے اور کس حد تک اختیارات ہیں۔بہر حال اس تعلق میں ان دو باتوں کی طرف میں مختصر توجہ دلاؤں گا۔ذیلی تنظیمیں دور ہٹے لوگوں سے رابطہ کر کے ان کے شکوک و شبہات دور کریں پہلی بات تو یہ ہے جو عقیدے سے تعلق رکھتی ہے اور ایک احمدی کے لئے اس کا جاننا ضروری ہے۔عموماً اس کا بیان تو ہوتا بھی رہتا ہے لیکن اُس توجہ سے نہیں ہوتا یا اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں ہوتا کہ ہمارے اپنے لوگوں کی بھی تربیت کی ضرورت ہے۔عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ایک پیدائشی احمدی ہے، اُسے علم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ نئے آنے والوں کو تو اس کا اچھی طرح علم ہوتا ہے۔پڑھ کر تحقیق کر کے آتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا جو اتنے زیادہ ایکٹو (active) نہیں ہیں، اجتماعات پر نہیں آتے ، بعض جلسوں پر بھی نہیں آتے اور ہر ملک میں