سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 365
سبیل الرشاد جلد چہارم 365 اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں اور قرآن شریف کی سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کے بارے میں اپنے لٹریچر میں، اپنی کتب میں، اپنے ارشادات میں جس طرح روشنی ڈال گئے ہیں ، وہ آج بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور قرآن شریف کی سچائی کو دشمنوں پر ثابت کر رہا ہے۔اسلام کی حقیقی تعلیم کھول کر بیان کریں۔میں نے مختلف موقعوں پر مختلف مثالیں دی ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی پہلوؤں کو غیروں کے سامنے بیان کیا جائے تو کس طرح وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر یہی سیرت ہے، یہی تعلیم ہے تو ہم غلطی پر تھے۔کچھ عرصہ ہوا اپنی کسی تقریر میں کینیڈا کے ایک مخالف اسلام کی میں نے مثال دی تھی جس نے ڈینش اخباروں کے کارٹون بھی اپنے رسالے میں ، اپنے اخبار میں شائع کئے تھے۔اُس نے جب اس دفعہ دورے میں وہاں میری بات سنی ہے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں اُسے علم ہوا تو وہ اپنے اخبار میں یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ امام جماعت احمدیہ کی بات سن کر مجھے حقیقت کا علم ہوا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔اسی طرح گزشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک بڑے سیاستدان نے جمعہ کے حوالے سے غلط قسم کا پروگرام اپنے ریڈیو میں دیا یا با تیں کیں۔اس پروگرام کو سننے والوں کی تعداد بھی بہت بڑی ہے، لاکھوں میں ہے۔اس پر جمعہ کی اہمیت اور حقیقت قرآنِ کریم کی رُو سے کیا ہے؟ اس بارہ میں ہمارے ایک احمدی نوجوان نے اپنا آرٹیکل لکھا، ویب سائٹ پر دیا۔پھر اس شخص کو لکھا گیا۔یہ وہاں کا بڑا پولیٹیکل لیڈر ہے، مشہور آدمی ہے کہ تم نے غلط کہا ہے، اب ہمیں بھی ریڈیو پر وقت دو۔چنانچہ اس نے وقت دیا۔یہ بہر حال اُس کی شرافت تھی اور ہمارے ایک احمدی نوجوان نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ریڈیو پر جمعہ اور اُس کے حوالے سے قرآن کے تقدس کے بارے میں بات کی تو اُس نے یہ تسلیم کیا کہ میری غلطی تھی اور اس پروگرام کو بھی لاکھوں افراد نے سنا۔اور یہ سب بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہی ہمیں حقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چلتا ہے۔پس یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہمیں بتایا، ہمیں حقیقت سے آشکار کیا ، اسی وجہ سے ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے بھیجا تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام دنیا پر روشن کریں، قرآن کریم کی تعلیم کو حقیقت کو آشکار کریں۔ذیلی تنظیمیں نو جوانوں کو بتا ئیں کہ ہم حضرت مسیح موعود کو کیوں مانتے ہیں پس اس وجہ سے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی عظمت اور قرآنِ کریم کی عظمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور وقار دنیا میں دوبارہ آپ کے ذریعہ سے قائم ہورہا ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی بھی وجہ سے کسی احساس کمتری کا شکار ہوں اور نوجوانوں کو اس بارے میں حوصلہ رکھنا چاہئے۔جہاں