سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 362
362 سبیل الرشاد جلد چہارم فرمایا کہ آپ سب کو ہمیشہ یہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور توکل صرف اور صرف دعا کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے۔جہاں دعائیں اللہ تعالیٰ پر ہمارا ایمان اور تو کل بڑھاتی ہیں وہاں یہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت کو کھینچ لاتی ہیں۔لہذا جماعتی عہدیداران پر یہ امر فرض اور لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعاؤں اور اس کی عبادات میں اپنے آپ کو فنا کر دیں۔ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں باقاعدگی اختیار کرنے والے ہوں۔بعض اوقات مجھے جماعتی عہدیداران کے قریبی عزیزوں بلکہ بعض اوقات ان کی بیویوں۔معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ وہ بہت سا جماعتی کام کرتے ہیں لیکن وہ فرض نماز میں ادا نہیں کرتے۔یاد رکھیں ! ہمیں ایسے کسی جماعتی عہدیدار کی ضرورت نہیں جو نماز ادا نہیں کرتا کیونکہ کسی بھی جماعتی عہد یدار کی بنیادی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ تمام نمازیں باقاعدہ ادا کرنے والا ہو اور اس بات کی ہر ممکن کوشش کرنے والا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جائے اور اس کا خدا تعالیٰ کی ذات سے ایک پختہ تعلق پیدا ہو جائے۔ہمیں ایسے عہد یداران کی قدر ہے جو اس بات پر یقین کامل رکھتے ہیں کہ جماعتی ترقی کا دارو مدار دعاؤں پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر اس کی مدد کسی بندے کے شامل حال ہو جائے تو کوئی ہستی اسے کامیابی اور فتح حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی۔اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ اگر کوئی بندہ خدا تعالیٰ کی نصرت سے بے بہرہ ہو تو چاہے وہ کتنا ہی ذہین یا چالاک کیوں نہ ہو ترقی اور کامیابی کسی بھی صورت اس کا مقدر نہیں بن سکتی۔عہدیداران کے تمام تر کام ایمانداری اور خلوص پر مبنی ہوں حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ ہر فرد واحد چاہے وہ نیشنل عاملہ، ریجنل عاملہ یا کسی بھی لوکل عاملہ میں شامل ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام تر کام ایمانداری اور خلوص پر مبنی ہوں۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے اسی سے مدد چاہنے والا ہو۔یہ وہ گر ہیں جن سے کامیابی بھی ملتی ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹنے والا بھی بن جاتا ہے الفضل انٹر نیشنل 25 اکتوبر 2013ء) نو جوانوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب ذیلی تنظیمیں دیں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ 16 راگست 2013ء میں فرمایا کچھ دن ہوئے ، دینی تربیتی امور کا ایک جائزہ اتفاق سے ایک عہد یدار کے ساتھ باتوں باتوں میں میرے سامنے آیا۔اُس کے بعد پھر میں نے اُن سے تحریری رپورٹ بھی منگوائی۔اس کو دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ بعض امور ایسے ہیں جن پر مجھے کچھ کہنا چاہئے۔جماعت کا ایک طبقہ جو ہے، اُس کو اس کی ضرورت ہے اور اسی طرح کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی عہدیداروں کو بھی ضرورت ہے۔یہ امور جس طرح یہاں کی جماعت