سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 14
14 سبیل الرشاد جلد چہارم ہم نے ایک آدھ دن پہنے ہوئے ہیں۔اور پھر چھوٹے ہو گئے یا کسی وجہ سے استعمال نہیں کر سکے۔تو اس کے بارہ میں واضح ہو کہ چاہے ایسی چیزیں ذیلی تنظیموں، لجنہ وغیرہ کے ذریعہ یا خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہی دی جا رہی ہوں یا انفردی طور پر دی جارہی ہوں تو ان ذیلی تنظیموں کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر ایسے لوگ چیزیں دیں تو غریبوں کی عزت کا خیال رکھیں اور اس طرح ، اس شکل میں دیں کہ اگر وہ چیز دینے کے قابل ہے تو دی جائے۔یہ نہیں کہ ایسی اُترن جو بالکل ہی نا قابل استعمال ہو وہ دی جائے۔داغ لگے ہوں، پسینے کی بو آرہی ہو کپڑوں میں سے۔تو غریب کی بھی ایک عزت ہے اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔اور ایسے کپڑے اگر دئے جائیں تو صاف کروا کر ، دھلا کر، ٹھیک کروا کر ، پھر دئے جائیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہماری ذیلی تنظیمیں بھی، لجنہ وغیرہ بھی دیتی ہیں کپڑے تو جن لوگوں کو یہ چیزیں دینی ہوں ان پر یہ واضح کیا جانا چاہتے کہ یہ استعمال شدہ چیزیں ہیں تا کہ جو لے اپنی خوشی سے لے۔ہر ایک کی عزت نفس ہے میں نے جیسے پہلے بھی عرض کیا ہے اس کا بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور بہت خیال رکھنا چاہئے " خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 310-311) بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہیں ،اب خلافت سے وابستگی میں ہی آپ کی زندگی اور بقا ہے۔جب تک ہم قرآن پڑھ کر سمجھ کر اس کی تعلیم کو اپنے اور اپنی نسلوں پر لاگو نہیں کریں گے، ہمارے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔خلافت خامسہ کے مبارک دور میں مجلس انصار اللہ برطانیہ کا پہلا سالانہ اجتماع 12-13-14 ستمبر 2003ء کو بیت الفتوح میں منعقد ہوا۔جس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 14 ستمبر کو اختتامی خطاب فرمایا۔جس کا خلاصہ مکرم محمود احمد ملک صاحب نے تیار کیا۔انصار اللہ کی تنظیم کا قیام اور اس کے مقاصد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود جن کو اپنے بچپن سے ہی اور جوانی میں ہی ہر وقت فکر دامن گیر رہتی تھی کہ کس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعثت کے مقصد کو پورا کیا جائے اور آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچایا جائے۔اور خلیفہ منتخب ہونے سے پہلے ہی آپ اس بارہ میں بہت سوچا کرتے تھے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔چنانچہ فروری 1911ء میں آپ کو کو عالم رؤیا میں دکھایا گیا کہ ایک بڑے محل کا ایک حصہ گرایا جارہا ہے۔ساتھ ہی ایک میدان میں ہزاروں پتھیر ے اینٹیں