سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 15

سبیل الرشاد جلد چہارم 15 پات رہے ہیں۔آپ کو بتایا گیا یہ عمل جماعت احمد یہ ہے اور تھیرے فرشتے ہیں اور محل کا ایک حصہ گرایا جارہا ہے تا کہ بعض پرانی اینٹیں خارج کر کے بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور نئی اینٹوں سے محل کی توسیع کی جائے۔نیز معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے اور فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے علم پا کر یہ کام کر رہے ہیں۔اس خواب کی بناء پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے خلافت سے پہلے ہی ایک انجمن بنانے کا فیصلہ کیا تا کہ اس کے ذریعے سے احمدیوں کے دلوں میں ایمان کو پختہ کیا جائے اور فریضہ تبلیغ کو با اصل وجوہ ادا کیا جائے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے نہ صرف خود استخارہ کیا بلکہ کئی اور بزرگوں سے استخارہ کروایا اور کئی ایک دوستوں کو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارات ہوئیں تب آپ نے حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی اجازت سے (وہ دور حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کا دور تھا ) ایک انجمن انصاراللہ کی بنیاد ڈالی اور اخبار بدر میں مفصل اعلان کروایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے ، جو ان دنوں میں بیمار تھے، بیماری کے باوجود آخر تک اس مضمون کا مطالعہ کیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ میں بھی آپ کے انصار اللہ میں شامل ہوتا ہوں کیونکہ یہ پاک دل سے اُٹھی ہوئی ایک پاک تمنا تھی اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بھی اس کام کو سراہا اور ظاہر ہے اس لئے بھی اس کی قدر کی کیونکہ جیسا کہ بعض اور حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے آپ کے علم میں تھا کہ آئندہ جماعت کی باگ ڈور اس شخص کے ہاتھ میں آنی ہے اور اس لئے بھی حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کی تو ہر وقت یہی خواہش ہوتی تھی اور کوشش ہوتی تھی کہ کون اسلام کی خدمت کے لئے آگے آئے اور میں اس کا ساتھ دوں ، اپنے آپ کو اس انصار اللہ کی تنظیم میں شامل فرمایا۔اس زمانہ میں اس تنظیم نے جس کی ممبر شپ اتنی وسیع نہیں تھی جو کام کئے وہ تو کئے لیکن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے دور خلافت میں اس رؤیا کے تقریباً 30 سال بعد وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے 40 سال سے اوپر کی عمر کے ممبران جماعت کے سامنے کچھ مقاصد پیش کئے جو کہ قومی ترقی کے لئے نسلوں کی تربیت کے لئے ، انتہائی ضروری تھے۔ایک تنظیم کا قیام فرمایا اور اس کا نام انصار اللہ رکھا۔انصار اللہ کو پانچ با توں کی طرف توجہ دینے کی ہدایت اس سے پہلے خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آچکا تھا۔اور جو خطبہ ارشادفرمایا اس میں جن کاموں کی طرف جماعت کو توجہ دلائی وہ پانچ کام ہیں جن کو ہر فرد جماعت کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور عمر کے لحاظ سے سب سے زیادہ انصار اللہ کواس پر توجہ دینی چاہیے اور وہ کام یہ ہیں: اس تبلیغ کرنا۔۲۔قرآن پڑھنا ۳۔شرائع کی حکمتیں بیان کرنا۔۴۔اچھی تربیت کرنا۔۵۔قوم کی دنیاوی کمزوریوں کو دور کر کے اُسے ترقی کے میدان میں بڑھانا۔آپ نے اس بات پر بڑا زور دیا کہ اگر یہ پانچ باتیں آپ میں پیدا ہوگئیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ہماری