سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 229
سبیل الرشاد جلد چہارم 229 قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے کے جہاد میں انصار ، صف اول کے مجاہدین ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد تو دین کے نام پر تلوار اٹھانا بند ہو گیا ہے۔يَضَعُ الْحَرُبَ والی حدیث تو واضح ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن جو جہاد ہے جس کے لئے ہمیں بلایا جارہا ہے وہ نفس کا جہاد ہے، اپنی حالتوں کو درست کرنے کا جہاد ہے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا جہاد ہے۔اپنے اندر اور اپنے خاندان میں قرآنی تعلیم کو لاگو کرنے کا جہاد ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو تبلیغ کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچانے کا نام جہاد ہے۔یہ وہ کام ہیں جو اس زمانہ میں ہم نے کرنے ہیں اور اس کے لئے انصار اللہ صفِ اول کے مجاہدین ہونے چاہئیں کیونکہ انہوں نے نعرہ لگایا ہے۔نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ۔پس آپ کا نام انصار اللہ رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ چالیس سال کے بعد یہ نہ سمجھیں کہ ہم اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔اب ہماری ذمہ داریاں ختم ہوگئی ہیں۔نہیں۔بلکہ آپ کی ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ گئی ہیں۔پہلے تو آپ ایک خادم تھے۔خادم کو ایک حکم دیا جاتا ہے کہ یہ کر دیا فلاں کام کرو۔اس نے فلاں کام کرنا ہے وہاں چلے جاؤ۔وہی کام کرتا رہے گا۔لیکن آپ لوگ اب اگلی منزل پر قدم رکھ چکے ہیں۔انصار اللہ کہلانے والے ہیں تا کہ ہر معاملہ میں آپ خود آگے بڑھ کر دین کے مددگار بننے والے ہوں۔پس یہ چیز آپ کو بن کے دکھانی ہے۔اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ہر دم تیار رہنا ہے۔انصار اللہ کے جو تبلیغی پروگرام ہیں سب سے بڑھ کر مؤثر ہونے چاہئیں۔پس اس طرف خاص طور پر توجہ دیں۔انصار کو دوسروں کے لئے نمونہ ہونا چاہئے پھر یہ کہ جب آپ نے نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کہا تو تعاون با ہمی جو ہے، تعلقات جو ہیں، ان میں آپ کے رویے اعلیٰ معیار رکھنے والے ہونے چاہئیں۔پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور اس لئے پیدا کی ہیں کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے اسلام کی صحیح اور خوبصورت تصویر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔جب یہ حالت ہوگی تو پھر ہی آپ انصار اللہ کہلائیں گے اور تبھی آپ سچے مومن کہلائیں گے۔آپ نے ایسے نمونے قائم کرتے ہوئے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ، خدام الاحمدیہ کو بھی اپنے اوپر چلانے کی کوشش کرنی ہے، وہ آپ کے بچے ہیں۔اطفال کو بھی اوپر چلانے کی کوشش کرنی ہے۔لجنہ کے لئے بھی وہ نمونے قائم کرنے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ عورت سب سے زیادہ اپنے خاوند کی راز دار ہوتی ہے۔اس لئے اس کے سامنے بہترین نمونے پیدا کرو تا کہ اس کی تربیت ہو۔جب اس کی تربیت ہوگی تو آپ کی اولاد کی تربیت ہوگی۔جب آپ کی اولاد کی تربیت ہوگی تو آئندہ نسلوں کی تربیت ہو رہی ہوگی۔اور جب آئندہ نسلوں کی تربیت ہو رہی ہوگی تو ہم آئندہ ایسی قوم کی تربیت کر رہے ہوں گے