سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 230
سبیل الرشاد جلد چہارم 230 جس نے ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے۔یہ تسلسل سے کئے جانے والا کام ہے جس کی ذمہ داری انصار اللہ پر سب سے بڑھ کر ہے۔پس ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ ذمہ داریاں ہیں جو آپ نے نبھانی ہیں۔سچے مومن کی نشانی بھی یہی ہے،جیسا کہ میں نے کہا ، مومن جب عہد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ منہ نہیں پھیرتا۔اگر پھیرے تو انصار اللہ ہونے کا یا مومن ہونے کا دعوی ہی فضول ہے۔جو منہ پھیرنے والے لوگ ہیں ایسے لوگوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے يَعْبُدُ الله عَلى حَرف (الحج: 12) یہ اللہ تعالیٰ کی سرسری عبادت کرنے والے ہیں۔منہ سے کہہ دیا کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں، ہم مدد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں یہ لوگ نہیں ہیں ، ان کے دلوں میں کچھ اور ہے ، ان کا ایمان کامل نہیں ہے۔پس بڑے خوف کا مقام ہے۔ہماری عمر بڑھ نہیں رہی۔عمر کم ہو رہی ہے۔آخری وقت قریب آرہا ہے جس کے لئے ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔پس اپنے ایمان کو کامل کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے وارث بن سکیں۔پھر مومن کو اگر ابتلاء آئے تو منہ نہیں پھیر لیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابتلاء میں بھی مومن وہ ہیں جو کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے حصہ لینے والے ہیں۔یہ نہیں کہ جب بھلائی پہنچے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے بڑھ بڑھ کر کرنے لگ جاتے ہیں۔پس دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ، انصار ہونے کا حق ادا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے جائزے لیتے رہیں۔اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہیں۔اپنے گھروں میں اپنی اولادوں کے جائزے لیتے رہیں۔اپنی بیوی بچوں کی طرف توجہ دیں۔دنیا کمانا اور دنیا میں آکر دنیا میں غرق ہو جانا تو کام نہیں اور پھر دعوئی یہ کرنا کہ ہم انصار اللہ ہیں۔پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو اس زمانے میں آپ پر ڈالی گئی ہے اور آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو نبھا ئیں گے۔عمر بڑھنے کے ساتھ اولا د اور مال کی فکر بڑھتی ہے بڑی عمر میں انسان آتا ہے تو انصار میں داخل ہوتا ہے۔اس کی دو صفیں بنائی گئی ہیں ،صف اوّل اور صف دوم۔لیکن بڑی عمر میں جس طرح عمر بڑھتی چلی جاتی ہے انسان کی طبیعت میں نرمی بھی آجاتی ہے اور اس نرمی کی وجہ سے کمزوری آجاتی ہے اور ایسی حالت میں پھر بعض دفعہ اولا د ابتلا بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری اولا داس عمر میں ابتلا نہیں بننی چاہئے۔اس طرح دنیا کمانے کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔دنیا کمانے کا بہترین حصہ جو تجربہ کے لحاظ سے بھی ہے اور ویسے بھی ہے۔وہ تو انصار اللہ کی عمر کا ہے۔اگر اس کا جائزہ لیں تو جتنی عمر خدام الاحمدیہ کے کمانے کی ہے، اگر ایک خادم صحیح عمر پہ کام پر لگ جاتا ہے تو وہ پچیس سال ہے لیکن تجربہ کے لحاظ سے اور کمانے کے معراج تک پہنچنے کے لحاظ سے چالیس سال سے لے کر 65 سال