سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 228

228 سبیل الرشاد جلد چہارم لڑنے پر بھی تیار ہو گئے ، آپ کے آگے لڑنے کو بھی تیار ہو گئے اور آپ کے پیچھے لڑنے کو بھی تیار ہو گئے۔اور یہ اعلان کیا کہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو نہ روند دے۔یہ تھے وہ انصار اللہ۔پھر یہی نہیں کہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں شامل ہو کے مسلمان ہو گئے۔وہ نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے بلکہ ایمان میں بڑھے تو صرف آپ کی حفاظت کے لئے تیار تھے یا اسلام کی خاطر جنگیں لڑنی پڑیں تو تیار ہو گئے بلکہ ہجرت کرنے والے صحابہ جو آپ کے ساتھ مدینہ آئے تھے ان کے لئے بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو گئے۔اُن کو اپنے مال میں سے حصہ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ان کو اپنی بیویوں میں سے حصہ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ان کو جو مدد جائز طور پر میسر ہو سکتی تھی دینے کے لئے تیار ہو گئے۔تو یہ تھے وہ انصار اللہ۔اور پھر ایمان میں اس قدر ترقی کی کہ اسلام اور ایمان کی خاطر باپ بغیر کسی تردد کے بیٹے کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور بیٹا باپ کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور بغیر کسی سوچ کے یہ اعلان کیا کہ ایک دفعہ ہم نے بیعت کر لی، ایک دفعہ مسلمان ہو گئے ، ہمارے ایمان میں ترقی ہوگئی تو اب ہماری سوچ یہ ہو نہیں سکتی کہ ہم اسلام کی خاطر کوئی بھی شخص جو اسلام کا دشمن ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے اس کو برداشت کر سکیں۔اسلام کی تاریخ میں عبد اللہ بن ابی ابن سلول کا واقعہ آتا ہے، قرآن کریم نے بھی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔وہی شخص جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ شہر کا ذلیل آدمی کہا تھا۔صحابہ سخت غصہ میں آگئے اور اس کے بیٹے کو بھی خبر پہنچی تو اس کے بیٹے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میرے باپ نے یہ الفاظ کہے ہیں اور آپ کی ہتک کی ہے اور نہایت ذلیل الفاظ استعمال کئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے آپ سزا کا اور قتل کا فیصلہ فرما ئیں اور یہ جائز ہوگا اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر میرا باپ کسی اور کے ذریعہ قتل ہوتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ کسی وقت میرے دل میں خیال آجائے کہ فلاں شخص نے میرے باپ کو قتل کیا تھا اور رشتہ کے تعلق کا احساس بھڑک اٹھے اور میں بدلے کیلئے تیار ہو جاؤں۔( عربوں میں اس زمانہ میں لوگ بدلہ لینے کیلئے ہر وقت تیار بیٹھے ہوتے تھے )۔تو آپ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کی گردن اڑا دوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔کوئی سزا نہیں دینے والا۔لیکن جب وہ مدینہ میں داخل ہو رہے تھے تو اُس نے اپنے باپ کو روک لیا کہ تم اس شہر میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک یہ اعلان نہ کرو کہ میں اس شہر کا ذلیل ترین آدمی ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معزز ترین انسان ہیں۔یہ الفاظ کہلوائے اور پھر اسے جانے دیا ورنہ یہ اعلان کیا کہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔تو یہ وہ لوگ تھے جو انصار بنے اور انصار ہونے کا حق ادا کر دیا۔یہ ہے ایمان جس کا آج ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔مگر کسی کی گردن اڑانے کیلئے نہیں۔