سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 227

227 سبیل الرشاد جلد چهارم طور پر دین کو اپنے اوپر لاگو کرنے کا وعدہ کرنے والے ہوں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ جو دین کی اشاعت میں مددگار بننے والے ہوں۔اور ایک اس کا یہ مطلب ہے کہ ایسے لوگ جو اپنے پاک نمونے قائم کرنے والے ہوں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ انتہائی قابلِ اعتماد ساتھی بننے کا عہد کرنے والے ہوں۔اور پھر یہ کہ اس حد تک وفادار اور ایماندار ہوں کہ کوئی چیز ان کی وفا اور ایمان کے آڑے نہ آئے۔اور اس وجہ سے پھر وہ بہترین مشیر بننے والے ہوں ،مشورے دینے والے ہوں اور پھر یہ کہ دوستی کا حق نبھانے والے دوست ہوں۔یہ نہیں کہ منہ سے کہہ دیا کہ ہم دوست ہیں اور جب وقت آئے تو دوست کو چھوڑ کر چلے جائیں۔پھر یہ کہ ان میں ایسا رشتہ ہونا چاہئے کہ جو تمام رشتوں پر حاوی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عہد بیعت میں جو شرائط رکھی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرے سے وفا اور اطاعت کا ، وفاداری، فرمانبرداری اور خلوص کا جو تعلق ہے وہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہوگا۔یہ عہد آپ نے قبول کیا ہے اور یہ عہد آپ انصار کے اجتماع میں دہراتے بھی رہتے ہیں۔گو ان الفاظ میں نہیں لیکن خلاصہ یہی ہے کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے۔تو اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ایسے حواری ہیں جو ان شرائط پر پورا اترتے ہیں؟ اور اگر ہوں گے تو پھر انصار اللہ کہلانے کے حق دار کہلائیں گے۔پس حواری ہونے کی اور اس کے نتیجہ میں انصار اللہ ہونے کی یہ وضاحت اور مطلب ہے۔اگر ہم نے انصار اللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ کام کر کے دکھانے ہوں گے۔ہر قربانی کے لئے تیار ہونا ہوگا۔اپنی اناؤں کو چھوڑ نا ہوگا۔اپنی سوچوں کو بدلنا ہوگا۔اپنے آپ کو کامل طور پر اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہو گا جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم حواریوں میں داخل ہو گئے کہ ہم انصار اللہ ہیں کافی نہیں۔یہ توقعات حضرت عیسی علیہ السلام نے ان حواریوں سے کی تھیں اور انہوں نے انہیں پورا کرنے کی کوشش کی ، گو وہ پوری طرح نہیں کر سکے۔لیکن مسیح محمدی کے جو حواری ہیں، وہ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ تو ان کا یہ کام ہے کہ کامل طور پر کامل الایمان ہوکر ، کامل طور پر وفا شعار ہو کر ، کامل طور پر اطاعت گزار ہو کر اپنے آپ کو ایسے حواری بنا کر دکھائیں جو واقعی طور پر انصار اللہ ہوں اور اس کو بیچ کر کے دکھائیں۔صحابہ رسول حقیقی معنوں میں انصار اللہ تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار تھے۔انہوں نے قربانیاں دکھا ئیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف نہیں لائے تھے اُس وقت بالکل اور سوچ تھی۔جب آپ مدینہ تشریف لے آئے ، جب ایمان میں ترقی کرنے لگے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے کام دکھایا تو وہی لوگ جو کچھ شرائط کے ساتھ آپ کی حفاظت کرنے کو تیار تھے آپ کے دائیں لڑنے پر بھی تیار ہو گئے ، آپ کے بائیں