سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 226

سبیل الرشاد جلد چہارم 226 میں ٹھنڈا موسم ہونے کی وجہ سے شاید ہم نہ آسکیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بھی کافی بہتر حاضری ہے۔اس سال خلافت جو بلی کے حوالہ سے ہر فنکشن جو جماعت میں ہورہا ہے ، چاہے وہ ذیلی تنظیموں کے فنکشن ہیں یا جماعتی فنکشن ہیں، حتی الوسع خاص طور پر بڑے اہتمام سے منعقد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس میں میں بھی شامل ہوں۔گزشتہ سال کسی وجہ سے میں شامل نہیں ہو سکا تھا۔اس سال بھی جو پہلی تاریخیں دس اکتوبر کی رکھی گئی تھیں ان میں میں سفر کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکتا تھا۔تو اس لحاظ سے میں نے صدر صاحب انصار اللہ کو معذرت کر دی تھی کہ اجتماع کر لیں۔لیکن پھر عاملہ نے فیصلہ کیا کہ تاریخیں آگے کر دی جائیں۔گو موسم ان دنوں میں مزید ٹھنڈا ہو گیا ہے لیکن بہر حال جب انہوں نے آگے کیا تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں شامل ہوتا کیونکہ بہانہ کوئی نہ رہا تھا۔بہر حال 10 اکتوبر کو جو شروع ہونا تھا اور 12 کو اختتام تو اس میں بھی نہ شامل ہونے کا بہانہ نہیں تھا۔ایک مجبوری تھی کہ فرانس کی مسجد کے افتتاح کے لئے انہیں تاریخیں دے چکا تھا اور جیسا کہ سب لوگوں نے دیکھا کہ فرانس کی مسجد کا افتتاح بڑی تاریخی اہمیت کا حامل تھا اور اُس کی وجہ سے فرانکو فون ممالک میں اور دنیا کے بہت سارے ممالک میں احمدیت کو بہت تعارف حاصل ہوا ہے۔اس لحاظ سے بہر حال اس کی اپنی اہمیت تھی اُس کو چھوڑ انہیں جاسکتا تھا۔اگر انصار اللہ کی صرف یہ خواہش ہے کہ میں اُس میں شامل ہوں اس لئے کہ ان کے پروگرام زیادہ ہائی لائٹ (Highlight) ہو جاتے ہیں۔ایم ٹی اے پر دکھائے جاتے ہیں اور اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، تو بالکل بے فائدہ ہے لیکن اگر اس لئے ہے کہ ہم انصار اللہ ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے جس میں اخلاص اور وفا کا اظہار ہوتا ہو تو پھر واقعی آپ کا یہ تاریخیں تبدیل کرنا اور سارا اجتماع ان تاریخوں میں منتقل کرنا قابل ستائش ہے۔بس اصل اصول یہ ہے کہ اس کو پکڑے رکھیں کہ اخلاص ، وفا، اطاعت اور کامل فرمانبرداری دکھاتے ہوئے انصار اللہ نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔شرائط بیعت پر پورا اتر نے والا ہی انصار کہلانے کا حق دار ہے اس مضمون پر میں پہلے تیجیم میں بھی اور یہاں بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔تاریخ ہمیں جن انصار اللہ کا بتاتی ہے وہ یسوع مسیح کے حواری تھے۔اور انہوں نے حواریوں سے پوچھا کہ کون ہوں گے میرے مددگار؟ تو حواریوں نے جواب دیا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ الله - حواری کا کیا مطلب ہے؟ کیا حواری وہ تھے جو اس وقت فوری طور پر ایمان لائے تھے اور یہ کافی ہو گیا۔اور وہ جو حضرت مسیح کو اچھا سمجھنے والے تھے یا صرف وہ جو کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لے آئے۔باقی عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ کافی ہو گیا۔اگر اس کے گہرے مطالب دیکھے جائیں تو حواری وہ لوگ ہیں کہ جن سے قربانیاں مانگی جارہی ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو مکمل