سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 225

225 سبیل الرشاد جلد چہارم بنایا ہوا ہے جہاں یہ نماز پڑھتے ہیں۔یہ اصل میں دکھاوے کی باتیں ہیں۔اگر یہ مسلمان ہوتے تو سب سے پہلے مسجد بناتے۔اور یہ بہت بڑی روک ہے تبلیغ میں۔اس لئے اس طرف اب بہر حال توجہ کرنی چاہئے۔اور اسی حوالے سے اب میں اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ قربانیاں بے شک آپ نے کی ہیں اور کر رہے ہیں۔جہاں تک میر اعلم ہے کچھ رقم آپ کے پاس موجود بھی ہے لیکن مسجد بنانے کے لئے جگہ نہ مل سکی ہے۔اس لئے کہ سب کی مل کر جو کوشش صحیح رنگ میں ہونی چاہئے وہ نہیں ہوئی۔اگر آپ ایک ہو کر کوشش کریں تو انشاء اللہ اس میں برکت پڑ جائے گی۔اور جور تم آپ نے جمع کی ہے اس کا صحیح استعمال بھی ہو جائے گا۔تو یہاں بھی مسجد بنانے کی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اور اسی طرح آپ کو تبلیغ کے میدان میں بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اپنی تربیت کے لئے بھی آپ کو پہلے سے زیادہ توجہ پیدا ہو۔اپنی اولادوں کی تربیت کی طرف بھی آپ کو پہلے سے زیادہ توجہ پیدا ہوا اور سب سے بڑھ کر دعاؤں اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں آپ بڑھنے والے ہوں سبھی آپ حقیقی رنگ میں انصار اللہ کہلانے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس ملک میں بھی احمدیت اسلام کا پیغام جلد سے جلد پھیلے اور ہم وہ ترقیاں دیکھیں جو مقدر ہیں اور جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہوا ہے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین حضورانور نے فرمایا جماعت کی خاصی تعداد یہاں موجود ہے۔جومیں نے انصار اللہ سے باتیں کی ہیں وہ سب کے لئے ہیں۔اس طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے اور اللہ کرے کہ جلد سے جلد ہم یہاں ترقیاں دیکھیں اور جلد سے جلد آپ کی طرف سے مجھے خوشخبریوں کی اطلاع ملنے لگ جائے۔اللہ کرے۔آمین" الفضل انٹرنیشنل 9 جنوری 2009ء) انصار اللہ کو اللہ کی عبادت کا حق ادا کر نے والا ہونا چاہئے۔جو یہ نہیں کرتا وہ انصار اللہ کیسے کہلا سکتا ہے نحن انصار اللہ کے مبارک الفاظ میں مضمر انصار کی اہم ذمہ داریوں کا تذکرہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 26 اکتوبر 2008ء کو مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع کے آخری روز انصار سے خطاب کرتے ہوئے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔لحمد للہ کہ آج انصار اللہ کا اجتماع اختتام کو پہنچ رہا ہے۔صدر صاحب انصار اللہ کو کافی فکر تھی۔میرے خیال میں انہوں نے رپورٹوں میں اظہار بھی کیا اور کچھ انصار کی طرف سے بھی اس قسم کا اظہار تھا کہ اسلام آباد