سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 178

سبیل الرشاد جلد چہارم 178 عہد یداران مدد میں برابر کا سلوک کر پیس خواہ مدد لینے والوں میں سے کسی نے ان کے خلاف کوئی بات کہہ دی ہو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 8 دسمبر 2006ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" جو قسم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کھائی جائے اس کو توڑنا جائز اور ضروری ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اُس کی ربوبیت کے تحت جو تمہارے ساتھ سلوک ہو رہا ہے، انسانوں سے سلوک ہو رہا ہے، جس میں رحم بھی ہے بخشش بھی ہے اور بہت سے دوسرے فیض بھی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے تمہیں بھی ان کو اختیار کرنا چاہئے اور کسی بھی چیز کے خلاف دلوں میں کہنے پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ضرورت مند کی ضرورت پوری ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ فلاں آدمی ایسا ہے، فلاں عہد یدار کے ساتھ صحیح تعلقات نہیں ہیں یا فلاں بات فلاں کو غلط کہہ دی ہے تو اس کو اگر ضرورت بھی ہے تو اس کی مدد نہیں کرنی۔اس کی ضرورت پوری کرنا، اس کی مدد کرنا، اس کی بھوک مٹانا ایک علیحدہ چیز ہے اور انتظامی معاملات اور ان پر ایکشن (Action) لینا ایک علیحدہ چیز ہے“ (خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 612) انصار اللہ اپنے وعدے خود پورے کریں مرکز پر انحصار نہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے 9 دسمبر 2006ء کو جرمنی میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا۔" کچھ عرصہ ہوا آپ کے صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے لکھا کہ انصار اللہ نے 100 مساجد کیلئے وعدہ کیا ہوا ہے۔پانچ لاکھ یا جتنا بھی تھا۔جو میں نے ٹارگٹ دیا تھا ساروں کو اور فلاں فلاں اخراجات ہو گئے ہیں اس لئے مرکز ہمیں اتنے عرصہ کے لئے کچھ قرض دے دے تاکہ انصار اللہ اپنا وعدہ پورا کر سکے۔تو میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ بالکل اس کی امید نہ رکھیں۔یہ گندی عادت جو آپ ڈالنا چاہتے ہیں اپنے آپ کو اور پھر ایک آپ کو جو یہ گندی عادت پڑے گی تو باقی تنظیموں کو بھی پڑے گی۔اس کو میں نہیں ہونے دوں گا خود ہمت کریں ، خود رقم جمع کریں۔انہوں نے وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا مجھے نہیں پتہ لیکن بہر حال انکار ہو گیا تھا۔تو میں نے سوچا تھا کہ اگر انہوں نے زیادہ زور دیا یا کسی اور تنظیم نے لکھا تو پھر میں ان کو یہی جواب دوں گا کہ اب میں پاکستانی احمدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ان امیر بھائی بہنوں کی مدد کریں کیونکہ یہ ہمت ہار رہے ہیں۔اور کچھ تھوڑا بہت جوڑ کر آنہ دو آ نے چندہ جمع کریں اور ان لوگوں کو بھجوادیں۔لیکن میرا خیال ہے کہ میرا انصار اللہ کو جو جواب تھا وہ کافی اثر کر گیا اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب آپ لوگ خود اپنے پاؤں پہ ساری تنظیمیں کھڑی ہوں گی۔خطبات مسر در جلد 4 صفحہ 644-645)