سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 177

177 سبیل الرشاد جلد چہارم اس ذمہ داری کو سمجھیں کہ وہ جس نظام جماعت کے لئے کام کر رہے ہیں وہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں کام کر رہا ہے۔اس لئے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ان کا اولین فرض ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ہر ایک کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔فیصلے کرتے وقت، خلیفہ وقت کو سفارش کرتے وقت ہر قسم کے تعلق سے بالا ہو کر سفارش کیا کریں۔اگر کسی کی حرکت پر فوری غصہ آئے تو پھر دودن ٹھہر کر سفارش کرنی چاہئے تا کہ کسی بھی قسم کی جانبدارانہ رائے نہ ہو۔اور فریقین بھی یادرکھیں کہ بعض اوقات اپنے حق لینے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا یہ کہنا چاہئے کہ نا جائز حق مانگتے ہیں۔( تو انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے )" خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 571-572) اعزازی خدمت کرنے والے سے بھی کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو، کوئی ایسا کلمہ نہ نکلے جو سچائی کے خلاف ہو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یکم دسمبر 2006ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" اس پہلو سے بھی ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو، کوئی ایسا کلمہ نہ نکلے جو سچائی کے خلاف ہو۔اس کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ اپنے رب کے احسانوں کا شکر ادا کر سکے اور اس کے انعاموں کا وارث بن سکے۔ملازمت کرنے والا ہے یا کوئی بھی کام کرنے والا ہے تو محنت اور ایمانداری سے کام کرے، لوگوں سے معاملات ہیں تو ان کے حقوق کا خیال رکھے۔جماعتی ذمہ داریاں ہیں، چاہے اعزازی خدمت کی صورت میں ہے یا واقف زندگی کارکن کی صورت میں ہے ان میں کبھی کسی قسم کی نستی یا سچائی سے ہٹی ہوئی بات سامنے نہ لائے۔ہر ایک شام کو اپنا جائزہ لے تاکہ پتہ لگے کہ کس حد تک صدق پر قائم ہے، ضمیر گواہی دے کہ ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا اور راتیں بھی اس بات کی گواہی دیں کہ تقویٰ سے رات بسر کی۔اگر دن اور رات میں ہماری سچائی اور تقویٰ کے معیار رہے تو کامیابی ہے لیکن اگر معیار گر رہے ہیں تو اس دعا کے حوالے سے کہ ہم نے آنے والے منادی کو سنا، منادی کو مانا یہ بات غلط ہو جائے گی ، یہ جھوٹ ہے، اپنے نفس سے بھی دھوکہ ہے اور خدا تعالیٰ جو ہمارا رب ہے اس سے بھی دھوکہ ہے" (خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 600)