سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 147

147 سبیل الرشاد جلد چہارم لئے کھلا ہے۔اس میں آگے بڑھیں ذاتی رابطے کر کے اور طریقے اپنا کر تبلیغ کا کام کریں۔اس کام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں۔مردوں میں تو میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے نو جوانوں میں دوسری قوموں کے بھی کافی لڑکے کام کرنے والے ہیں۔بعض عورتوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو اور عورتوں کو خاص طور پر چاہئے اپنی استعدادوں کے مطابق اور اپنے دائرے کے مطابق تبلیغ کے میدان میں آگے آئیں۔بہر حال انصار اللہ کی تنظیم اور لجنہ اماءاللہ کی تنظیم اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم ان سب کو جائزے لینے چاہئیں کہ کیوں یہ شکوے پیدا ہوتے ہیں۔چاہے وہ دو چار کی طرف سے ہی ہوں۔لیکن شکوے رکھنے والے بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔انصار اللہ کے صدر بھی شاید نجفی کے رہنے والے ہیں۔وہ آسانی سے اپنے لوگوں کی نفسیات دیکھ کر پروگرام بنا سکتے ہیں۔لجنہ کو بھی جائزے لینے کی ضرورت ہے۔غیر پاکستانی احمدیوں کی یا ایسے نوجوان پاکستانیوں کی جو لمبے عرصہ سے ملک سے باہر ہیں اور ان کا معاشرہ بالکل بدل چکا ہے ان کی فہرست بنائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کو کس طرح جماعت کا فعال حصہ بنایا جا سکتا ہے۔اپنی کوشش کریں تا کہ ان کے شکوے دور ہو جائیں۔بہر حال اس کیلئے جس طرح میں پہلے کہہ چکا ہوں دونوں طرف سے دلوں کو کھو لنے اور بلند حو صلے دکھانے کی ضرورت ہے۔ہر طبقے کو اپنے تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس کے بغیر وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا۔ہر ایک کو یا درکھنا چاہئے کہ جماعت کا ایک نظام ہے اور یہ خلیفہ وقت کے ماتحت ہے اسلئے نظام کی اطاعت بھی فرض ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو تقویٰ پر چلتے ہوئے جہاں رحمن خدا سے تعلق جوڑنے کی توفیق دے وہاں اللہ تعالیٰ اخلاق کے نمونے دکھانے اور اطاعت نظام کا پابند بنے کی بھی توفیق دے۔اور آج سے آپ لوگوں میں وہ روح پیدا کر دے جس کا اثر ہر دیکھنے والے کو آپ میں نظر آئے۔اور آپ لوگ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو جلد از جلد اس ملک کی اکثریت میں پھیلانے والے ثابت ہوں۔آمین" خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 204-208)