سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 146

146 سبیل الرشاد جلد چہارم میں پلاننگ کریں۔صرف روایتی بک سٹال یا صرف عشرہ تبلیغ منانے سے مقصد حاصل نہیں ہو سکتے۔صرف اتنا کام ہی کا میابی نہیں دلائے گا اس کے لئے مزید پلانٹنگ بھی کرنی ہوگی۔انفرادی رابطے ہیں اور دوسری چیزیں ہیں۔مختلف قوموں کے بارے میں جو یہاں آباد ہیں معلومات جمع کر کے پھر ان میں تبلیغ کے نئے ذرائع تلاش کریں ، ہر طبقے کے پاس پہنچنے کی کوشش کریں اور پھر قائم شدہ رابطوں کو ہمیشہ قائم رکھیں ، ان کے ساتھ مسلسل تعلق اور رابطہ رکھیں۔اس ضمن میں یہ بھی بات کہنی چاہتا ہوں کہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے بلکہ چند ایک جواحمدی ہوئے ہیں ان کی شکایت بھی ہے کہ یہاں اکثریت کیونکہ پاکستانیوں کی ہے یہ ہمیں اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔اجلاس وغیرہ میں بھی ایسی زبان ہونی چاہئے کہ جو یہاں کی زبان ہے یعنی انگریزی میں کارروائی ہو، تا کہ جو یہاں جزائر سے آئے ہوئے احمدی ہیں وہ بھی سمجھ سکیں۔گواکثر کو اردو بھی آتی ہے لیکن انگریزی میں زیادہ آسانی ہے۔یہاں کے رہنے والے بھی ہیں جو بچے یہاں پلے بڑھے ہیں ان کو بھی انگریزی زبان زیادہ سمجھ آجاتی ہے۔سوائے چند ایک بڑی بوڑھیوں کے یا بوڑھوں کے یا ان پڑھوں کے، جن کو سمجھ نہیں آتی ان کیلئے ترجمے کا انتظام ہوسکتا ہے۔یا مختصرا اُردو میں کوئی پروگرام ہوسکتا ہے۔تو بہر حال غیر پاکستانی احمدیوں کے یہ شکوے دور ہونے چاہئیں کہ ہم یہاں آ کر یوں محسوس کرتے ہیں جس طرح ہم جماعت کا حصہ نہیں ہیں یہ بہت خطرناک صورت ہو سکتی ہے۔ان نئے آنے والوں سے کام بھی لیں ، ان کے شکوے دور کریں۔میں نے جائزہ لیا ہے، ان نئے آنے والوں کیلئے بعض سے میں نے یہ پوچھا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے، بہر حال مجھے ان سے جو معلومات ملی ہیں یہی ہیں کہ یہاں ان کو با قاعدہ کوئی سکھانے کا انتظام نہیں ہے۔عورتوں کیلئے دینی تربیت کا، تعلیم کا انتظام لجنہ کرے۔مردوں کے لئے ذیلی تنظیمیں انتظام کریں، مجموعی طور پر جماعت جائزہ لے۔اگر اس سلسلے میں ذیلی تنظیمیں پوری طرح فعال نہیں تو جماعتی نظام کے تحت انتظام ہو اور نگرانی ہو۔اور جو ذیلی تنظیمیں سست ہیں ان کے بارے میں مجھے اطلاع بھی دیں۔تو جب اس طرح کام کریں گے تبھی ہر احمدی کو جماعت کا فعال حصہ بنا ئیں گے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں بعض فجین احمدیوں کو بھی شکوہ ہے کہ بعض دفعہ یہاں آکر وہ اپنے آپ کو اوپر امحسوس کرتے ہیں۔تو ان سے میں کہتا ہوں اس کا ایک یہ بھی علاج ہے۔وہ احمدی ہوئے ہیں انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اور سمجھا ہے وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ جماعتی کاموں میں لگائیں کہ انتظامیہ ان سے کام لینے پر مجبور ہو۔تبلیغ کا بہت بڑا میدان خالی پڑا ہے۔ہر احمدی کے